دبئی میں دنیا کے سب سے بلند میٹرو اسٹیشن کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا، کتنی لاگت آئیگی؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں دنیا کے سب سے بلند میٹرو اسٹیشن کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔
دبئی کے حکام کے مطابق یہ اسٹیشن زمین سے 74 میٹر بلند ہوگا اور اس کی تکمیل 2029 میں متوقع ہے۔
متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے اس بلند میٹرو اسٹیشن کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ اسٹیشن دبئی میٹرو کے تیسرے ٹریک “بلیو لائن” کا حصہ ہوگا، جس کا آغاز دبئی میٹرو کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر 9 ستمبر 2029 کو کیا جائے گا۔ بلیو لائن کا ٹریک 130 کلومیٹر طویل ہوگا اور یہ دبئی کے 9 اہم علاقوں کو آپس میں جوڑے گا۔ حکام کے مطابق، بلیو لائن میں 14 اسٹیشنز ہوں گے، جن میں سے 5 زیر زمین ہوں گے۔
دبئی کی بلیو لائن کے اہم انٹرچینج اسٹیشنز میں جداف، راشدیہ اور انٹرنیشنل سٹی شامل ہوں گے، اور یہ لائن دبئی کے مختلف علاقوں جیسے مردف، ورقا، انٹرنیشنل سٹی، سیلیکون اویسس، انٹرنیشنل اکیڈمک سٹی، فیسٹیول سٹی، دبئی کریک ہاربر اور راس الخور انڈسٹریل ایریا کو آپس میں منسلک کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔