Daily Mumtaz:
2026-07-24@09:55:13 GMT

سینیٹ میں بھی فنانس بل پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

سینیٹ میں بھی فنانس بل پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج

سینیٹ میں بھی مالی سال 2025-26 کا فنانس بل پیش کردیا گیا، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اراکین سے 3 روز کے اندربجٹ تجاویز طلب کرلیں جبکہ فنانس کمیٹی کو 10 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اجلاس کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔
سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت ہوا، جس میں آغاز پر سابق سینیٹر عباس آفریدی کی وفات پر فاتحہ خوانی کروائی گئی۔
ایوان میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور غزہ کے شہدا کے لیے دعائے مغفرت نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کرائی۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2025-26 کا فنانس بل ایوان میں پیش کیا تو اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شدید نعرے بازی شروع کردی۔
اپوزیشن اراکین نے جعلی بجٹ اور جعلی حکومت نامنظور کے نعرے لگائے اور کسانوں کا قتل، تنخواہ دار طبقے کا قتل کے نعرے لگائے۔
چیئرمین سینیٹ نے مالیاتی بل قائمہ کمیٹی خزانہ کے سپرد کرتے ہوئے بجٹ پر 10 روز میں سفارشات جمع کروانے کی ہدایت کی اور ممبران کو کہا کہ وہ تین روز میں سفارشات کمیٹی کو جمع کرواسکتے ہیں، اس کے بعد کوئی نئی تجویزقابلِ قبول نہیں ہوگی۔
ایوان میں سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 اور نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ 1997 سے متعلق رپورٹس بھی پیش کی گئیں۔ اس دوران اپوزیشن کا احتجاج اور نعرے بازی مسلسل جاری رہی۔
چیئرمین سینیٹ نے اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے 10 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف