Express News:
2026-07-24@06:56:32 GMT

اکنامک سروے آف پاکستان

اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT

آپ جب یہ تحریر پڑھ رہے ہوںگے بجٹ آچکا ہوگا۔اس وقت میرے سامنے اکنامک سروے آف پاکستان ہے۔اس میںبتایا گیا ہے کہ زراعت کی کارکردگی سب سے بری رہی ہے۔ تمام بڑی فصلوں کی کارکردگی بری رہی ہے۔ اس میں گندم چاول کپاس سب شامل ہیں۔ ایک عمومی رائے یہی ہے کہ حکومت نے کسان سے گندم نہیں خریدی اسی لیے زراعت میں بہت نقصان ہوا ہے۔ لیکن میرا سوال ہے کہ چلیں گندم کانقصان مان لیتے ہیں کہ حکومت نے نہیں خریدی ۔ لیکن کپاس کیوں نیچے گئی ہے؟ چاول کو کیا ہوا ہے؟ اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔ زراعت کی بری کارکردگی کے ساتھ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

اعداد و شمار کے مطابق زرعی شعبے کی گروتھ 0.

56 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف 2 فیصد تھا، اہم فصلوں کی گروتھ منفی 13.49 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف منفی 4.5 فیصد تھا، دیگر فصلوں کی گروتھ 4.78 فیصد ریکارڈ ہوئی جب کہ ہدف 4.3 فیصد تھا۔ کاٹن جیننگ کی گروتھ منفی 19 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف منفی 2.3 فیصد مقرر تھا، لائیو اسٹاک شعبے کی شرح افزائش 4.72 فیصد جب کہ ہدف 3.8 فیصد تھا۔منفی گروتھ ہی ساری کہانی بتا رہی ہے۔

 سوال یہ بھی ہے کہ زراعت کی بری کارکردگی کا ذمے دار کون ہے۔ کیا وفاقی حکومت اس کی ذمے دار ہے۔ کیونکہ یہ بری کارکردگی وفاقی حکومت کے اکنامک سروے میں سامنے آئی ہے اس لیے ملبہ بھی سارا وفاقی حکومت پر گر رہا ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد زراعت کا شعبہ اب وفاقی حکومت کے پاس نہیں ہے۔

زارعت ایک صوبائی محکمہ ہے۔ اس لیے اگر زراعت کی کارکردگی بری رہی ہے تو یہ صوبائی حکومتوں کی نااہلی سمجھی جائے۔ صوبوں کو اس کا جواب دینا چاہیے۔وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کرنا چاہیے۔ ہم وفاق کو تو ہر سطح پر قابل احتساب ٹھہراتے ہیں۔ لیکن صوبے احتساب کے عمل سے مبرا ہیں۔ وفاقی بجٹ کو غیر ضروری اہمیت حاصل ہے۔ جب کہ صوبائی بجٹ بالکل نظر انداذکر دیے جاتے ہیں۔

اسی طرح بڑی صنعتوں کی کارکردگی بھی بری رہی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ صنعت کے شعبہ کی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ اب جس ملک میں زراعت اور صنعت کا شعبہ ہی ترقی نہ کرے وہ ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے۔ اس لیے صنعتی شعبہ میں اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال معیشت کی عبوری شرح نمو 2.68 فیصد رہی جب کہ ہدف 3.6 فیصد تھا، رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کا حجم 39 ارب 30 کروڑ ڈالر بڑھا، معیشت کا حجم 410 ارب 96 کروڑ ڈالر رہا، گزشتہ مالی سال پاکستان کی معیشت کا حجم 371 ارب 66 کروڑ ڈالر تھا۔شرح نمو جب تک چھہ فیصد تک نہیں پہنچے گی ترقی ممکن نہیں۔ یہ کوئی نا ممکن بات نہیں ہے۔ 2017میں ہم چھہ فیصد سے ترقی کر رہے تھے۔ لیکن پھر سب کچھ تباہ ہو گیا۔ اس کے بعد ہم نیچے اور نیچے ہی جاتے گئے۔ اور یہ سفر ابھی رکا نہیں۔

اکنامک سروے کے مطابق رواں مالی سال فی کس سالانہ آمدن 144 ڈالر بڑھی جب کہ سالانہ آمدن 1680 ڈالر رہی تھی، ملکی معیشت کا حجم 9600 ارب روپے بڑھا، رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کا حجم 114.7 ہزار ارب روپے رہا، گزشتہ سال پاکستان کی معیشت کا حجم 105.1 ہزار ارب روپے تھا۔

ملک میں جنگلات کی گروتھ بھی بہت کم رہی ہے۔ پاکستان ویسے موسمیا تی ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے۔ ہمیں اپنے جنگلات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ تا ہم اس سال جنگلات کی گروتھ 3.03 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف 3.2 فیصد تھا، ماہی گیری کے شعبے کی شرح نمو 1.42 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف3.1 فیصد تھا۔اب آپ دیکھیں ہمارے پاس سمندر ہیں۔ دریا ہیںلیکن ہماری ماہی گیری کی صنعتپسماندہ ہے۔ اس شعبہ میں بھی بہت جدت لانے کی ضرورت ہے۔ ہماراماہی گیر ابھی بھی پرانے طریقے ہی استعمال کر رہا ہے۔

 اکنامک سروے میں بتایا گیا ہے کہ پیداواری شعبے کی گروتھ 1.34 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف 4.4 فیصد تھا، بڑی صنعتوں کی گروتھ منفی 1.53 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف 3.5 فیصد تھا، چھوٹی صنعتوں کی گروتھ 8.81 فیصد ریکارڈ کی گئی جب کہ گروتھ کا ہدف 8.2 فیصد تھا، سلاٹرنگ (مذبح خانوں)کی گروتھ 6.34 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف 3.8 فیصد تھا، تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو 6.61 فیصد رہی جب کہ ہدف 5.5 فیصد مقرر تھا، خدمات کے شعبے کی گروتھ 2.91 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد ہدف مقرر تھا۔

ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ کی گروتھ 0.14 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد مقرر تھا، ہوٹلز اینڈ ریسٹورینٹس کی گروتھ 4.06 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد تھا، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن کی گروتھ 6.48 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف 5.7 فیصد مقرر تھا، فنانشل اور انشورنش سرگرمیوں کی گروتھ 5.7 فیصد رہی جو ہدف کے مقابلے میں 3.22 فیصد رہی۔

رئیل اسٹیٹ سرگرمیوں کی گروتھ3.75 فیصد رہی جب کہ گروتھ کا ہدف 3.7 فیصد تھا، تعلیم کے شعبے کی گروتھ 3.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 4.43 فیصد رہی، انسانی صحت اور سوشل ورک سرگرمیوں کی گروتھ 3.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.71 فیصد رہی، ٹرانسپورٹ اسٹوریج اینڈ کمیونیکیشنز کی گروتھ 3.3 فیصد ہدف کے بر عکس 2.2 فیصد رہی، پبلک ایڈمنسٹریشن اور سوشل سیکیورٹی کے شعبے کی گروتھ 3.4 فیصد ہدف کے مقابلے میں 9.92 فیصد رہی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سال پاکستان کی معیشت کا حجم ہدف کے مقابلے میں فیصد مقرر تھا رواں مالی سال شعبے کی گروتھ وفاقی حکومت اکنامک سروے کی کارکردگی فیصد ہدف کے بری رہی ہے کے شعبے کی کی گروتھ 3 جب کہ ہدف زراعت کی فیصد تھا

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف