ہماری گروتھ ترقی پذیر ممالک میں بھی سب سے کم ہے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 10th, June 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئےچیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سیاسی جوڑ توڑ کے بعد بھی حکومت کوئی ٹارگٹ حاصل نہ کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ گروتھ ترقی پذیر ممالک میں بھی سب سے کم ہے، تنخواہیں صرف پارلمنٹیرینز کی بڑھیں، سٹرکچر ریفارم زیرو، پنشن ریفارم زیرو، حکومت کسی ایک بھی ادارے کی نجکاری نہیں کر سکی۔ اسلام ٹائمز۔ چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہماری ملکی گروتھ ترقی پذیر ممالک میں بھی سب سے کم ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ کل کی اقتصادی سروے رپورٹ حکومت کی معاشی کارکردگی کی مایوس کُن عکاسی ہے، حکومت کے پاس آئی ایم ایف اور تمام اداروں کا تعاون رہا، سیاسی جوڑ توڑ کے بعد بھی حکومت کوئی ٹارگٹ حاصل نہ کر سکی۔ انہوں نے کہا کہ گروتھ ترقی پذیر ممالک میں بھی سب سے کم ہے، تنخواہیں صرف پارلمنٹیرینز کی بڑھیں، سٹرکچر ریفارم زیرو، پنشن ریفارم زیرو، حکومت کسی ایک بھی ادارے کی نجکاری نہیں کر سکی۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ حکومت کے مطابق بینطیر انکم سپورٹ میں 30 ارب اور بیت المال میں 8 ارب خرچ کیے، روٹی سب کے لیے پر کروڑوں خرچ ہوئے، حکومت سے کوئی پوچھے یہ پیسے جاتے کہاں ہیں۔؟ بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے دور میں ریمیٹنسز 32 ارب ڈالر تھیں، ابھی تک اُس کا آدھا بھی نہیں ہوا، سیاست کو معیشت سے الگ کریں، ہماری اچھی تجاویز پر عمل کریں، ملک گیر احتجاج میں اس بار اسلام آباد نہیں آئیں گے، لوگ بہت نکلیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر ریفارم زیرو کہنا تھا کہ کر سکی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔