ڈیرہ اسماعیل خان(آئی  این پی )گورنر خیبر  فیصل کریم کنڈی نے ایک بار پھر صوبائی حکومت پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں وفاق سے ملنے والے 700 ارب روپے کا حساب طلب کر لیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کا کہنا تھا کہ کوہستان میں 50 ارب روپے کی کرپشن ہوئی، مسجدوں کے سولر تک چوری کر لیے گئے، مگر نیب خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔فیصل کریم کنڈی نے انکشاف کیا کہ کوہستان اسکینڈل میں ملوث افراد نے ڈیرہ اسماعیل خان میں کسی اور کے نام پر پراپرٹیز خریدی ہیں، یہاں تک کہ کوہستان کے عام شہریوں نے بھی ڈیرہ میں جائیدادیں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بات جب نکلے گی تو فرانس تک جائے گی۔گورنر نے تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی)  کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتیں پہلے یہ طے کریں کہ ان میں سے زیادہ کرپٹ کون ہے۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ کوہستان میں لوٹ مار کی گئی اور اس کے بعد عوام کا پیسہ جائیدادوں میں لگا دیا گیا، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ان تمام سوالات کے جوابات دیے جائیں۔انہوں نے سابق صوبائی حکومت پر مسجدوں کے سولر پینل تک غائب کرنے کا الزام دہراتے ہوئے کہا کہ ایسی کرپشن کے بانی چئیرمین کو خود جواب دینا ہوگا کہ خیبر پختونخوا میں کون لوٹ مار کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن