حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال 2025-26 میں مزید بسوں کی خریداری اور ای وی ٹیکسیوں اور اسکوٹرز کے لیے بجٹ مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کا اہم اجلاس ہوا جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ایم ڈی سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کمال دایو، سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اجلاس میں ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت مختلف منصوبوں پیپلز بس سروس، ای وی اسکوٹرز سمیت دیگر امور کا جامع جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ای وی گاڑیوں کے لیے مختلف مقامات پر چارجنگ انفراسٹرکچر کے قیام پر  تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ 

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو محکمہ ٹرانسپورٹ کے مالی سال 2024-25 کے منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی اور  آئندہ مالی سال  میں مجوزہ منصوبوں پر بھی  جامع بات چیت کی گئی۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے تحت مختلف سرمایہ کاروں کی جانب  سے بس سروس شروع کرنے کے  بارے میں بھی آگہی دی گئی۔

انہیں بتایا گیا کہ یلو لائن بی آر ٹی کے اہم حصے جام صادق پل کا کام مکمل ہے، حالیہ ماہ اس کا افتتاح کر سکتے ہیں۔

اجلاس میں ریڈ لائن بی آر ٹی  کی جلد تکمیل کے لیے کام میں مزید تیزی لانے  کی ہدایات کی گئی۔

شرجیل انعام میمن  نے کہا کہ حکومت سندھ ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار اور جدید پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کے قیام کے لیے پرعزم ہے، حکومت سندھ  عوام کے لئے  ماحول دوست اور سستی سفری  سہولیات کے لئے مسلسل کوشاں ہے۔

شرجیل انعام میمن  نے مزید کہا کہ کراچی کے لئے مزید بسیں جلد پہنچنے کی امید ہے، کراچی کے شہریوں کے لیے ڈبل ڈیکر بسز بھی لا رہے ہیں، ہم نے کراچی میں ای وی بسز، پیپلز بس سروس   جیسے کامیاب منصوبے شروع کیے، کراچی کے کونے کونے میں یہ نیٹ ورک بچھانے کے لئے کام کر رہے ہیں۔

سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں ہر شہری کو جدید سفری سہولیات میسر ہوں، حکومت سندھ نے جو منصوبے شروع کیے ہیں، ان کا مقصد شہر کی ٹریفک کو منظم کرنا اور ٹرانسپورٹ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن حکومت سندھ کے لئے کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن