احمد آباد طیارہ حادثہ: سابق وزیراعلیٰ وجئے روپانی بیٹی سے ملنے لندن جارہے تھے
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
گجرات کے احمد آباد میں پیش آنے والے طیارہ حادثے کے نتیجے میں اب تک ہلاکتوں کی خبریں سامنے آ چکی ہیں اور کم و بیش 100 مسافروں کا علاج قریبی اسپتالوں میں چل رہا ہے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر انڈیا کا طیارہ پرواز بھرتے ہی کریش کرگیا، 242 افراد سوار، سابق وزیراعلیٰ گجرات سمیت 133ہلاکتوں کی تصدیق
بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجئے روپانی بھی ایئر انڈیا کے اس بدقسمت طیارے میں سوار تھے۔ میڈیا رپورٹس میں ان کے بھی شدید طور پر زخمی ہونے کی اطلاع ہے تاہم ان کی حالت کے حوالے سے مزید کوئی تفصیل اب تک سامنے نہیں آسکی ہے۔
68 سالہ وجئے روپانی طیارہ میں 2-ڈی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ وہ لندن میں اپنی صاحبزادی رادھیکا سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ میڈیا کی کچھ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وجئے روپانی کی اہلیہ انجلی بین بھی گزشتہ 6 ماہ سے لندن میں ہیں اور روپانی انہیں واپس لینے بھی لندن کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
مزید پڑھیے: ایئر انڈیا کا طیارہ کیسے تباہ ہوا؟ ویڈیو منظر عام پر آگئی
راجکوٹ میں وجئے روپانی کے ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ طیارہ حادثے کی خبر نے سب ہی کو پریشان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب بہت فکر مند ہیں اور ٹی وی اور فون پر اَپڈیٹ دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وجئے روپانی کے ساتھ کہیں کچھ برا نہ ہوا ہو۔
حادثے کے شکار طیارے میں 2 پائلٹس اور 10 کیبن اہلکاروں کے علاوہ 230 مسافر سوار تھے۔ مسافروں میں 169 ہندوستانی بتائے جا رہے ہیں جبکہ 53 مسافر کا تعلق برطانیہ سے تھا۔
مزید پڑھیں: ایئر انڈیا حادثہ، پاکستانی شخصیات کا اظہارِ افسوس
اس طیارے میں 7 پرتگالی اور ایک کینیڈین شہری بھی سوار تھے۔ زخمی مسافروں کو بچانے کے لیے مقامی انتظامیہ تگ و دو کر رہی ہے۔ برطانوی حکومت نے بھی متاثرہ برطانوی شہریوں کی ہر ممکن مدد کا وعدہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احمدآباد طیارہ حادثہ ایئر انڈیا طیارہ حادثہ سابق وزیراعلیٰ گجرات وجئے روپانی وجئے روپانی کی بیٹی رادھیکا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احمدا باد طیارہ حادثہ ایئر انڈیا طیارہ حادثہ وجئے روپانی ایئر انڈیا کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔