کسی بھی حملے کا پہلے سے کہیں زیادہ طاقت سے بھرپور جواب دیا جائے گا، کمانڈر حسین سلامی
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
تہران سے جاری اپنے بیان میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے کمانڈر جنرل حسین سلامی نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور اور تباہ کُن جواب دیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر اسرائیل کے ممکنہ حملے کی اطلاعات پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے کمانڈر نے کہا ہے اسرائیل کے کسی بھی حملے کا پہلے سے کہیں زیادہ طاقت سے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ تہران سے جاری اپنے بیان میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے کمانڈر جنرل حسین سلامی نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور اور تباہ کُن جواب دیا جائے گا۔ خبر ایجنسی کے مطابق ایران اور اسرائیل نے گزشتہ سال ایک دوسرے پر میزائل حملے کیے تھے۔
واضح رہے کہ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران پر حملہ کرسکتا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملے کےلیے پوری طرح تیار ہے۔ اسرائیل نے ایران پر حملے کی پیشگی اطلاع امریکا کو دے دی ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کسی بھی دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے، ہرگز قبول نہیں کہ اپنا پُرامن ایٹمی پروگرام بند کر کے صنعت، طب، زراعت اور دیگر علوم میں درکار جوہری مواد کے لیے مغرب کی منظوری کا انتظار کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جواب دیا جائے گا کہ اسرائیل کا پہلے سے ایران کے ایران پر کسی بھی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔