اسرائیل کسی بھی وقت ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
اسرائیل کسی بھی وقت ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرسکتا ہے، امریکی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 12 June, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (آئی پی ایس) امریکی میڈیا نے خبر دی ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کرسکتا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے کے پیش نظر ہائی الرٹ ہے، اور اسی تناظر میں امریکی محکمہ خارجہ نے مشرقق وسطیٰ سے اپنے سفارتی مشنز کے عملے میں کمی کرنا شروع کر دی ہے، بحرین، کویت کے بعد عراق سے بھی کچھ عملے کے انخلا کی اجازت دے دی گئی ہے، جب کہ پینٹاگون نے مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں سے فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ کے انخلا کی منظوری دے دی ہے۔
سکیورٹی کی اس بڑھتی ہوئی صورتحال کا پس منظر یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایسے کسی معاہدے کے امکانات کو کم ہوتا دیکھ رہے ہیں، جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کی جاتیں، اور مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تباہ کن فوجی تصادم کو روکا جا سکتا۔
ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو بتایا تھا کہ میں اب اس معاہدے کے بارے میں اتنا پُرامید نہیں ہوں، جتنا کچھ مہینے پہلے تھا، ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے، لیکن میں معاہدے کے ہونے کے بارے میں بہت کم پُرامید ہوں۔
حالیہ مہینوں میں، امریکی انٹیلی جنس حکام کو اس بات پر شدید تشویش ہے کہ اسرائیل ممکنہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکا کی منظوری کے بغیر حملہ کر سکتا ہے، ایسا اقدام نہ صرف ٹرمپ انتظامیہ کی نازک جوہری سفارت کاری کو سبوتاژ کر دے گا، بلکہ ایران کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں امریکی اثاثوں پر جوابی کارروائی کو بھی جنم دے گا۔
تہران طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اسرائیل کے سب سے بڑے فوجی اور سیاسی حامی کے طور پر امریکا کو ایران پر کسی بھی اسرائیلی حملے کی صورت میں نتائج بھگتنا ہوں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں ان تمام سفارت خانوں کو (جو ایرانی مفادات کی زد میں آ سکتے ہیں، جن میں مشرق وسطیٰ، مشرقی یورپ اور شمالی افریقہ کے مشن شامل ہیں ) ہدایت دی ہے کہ وہ ایمرجنسی ایکشن کمیٹیاں قائم کریں، اور واشنگٹن کو حفاظتی اقدامات سے متعلق رپورٹیں بھیجیں۔
اسی عمل کے نتیجے میں بدھ کے روز وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عراق سے غیر ضروری عملے کے انخلا کی اجازت دی تھی۔
محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ہم ہر وقت اپنی سفارت خانوں کی افرادی قوت کے حوالے سے صورت حال کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، ہماری تازہ ترین تجزیے کی بنیاد پر ہم نے عراق میں اپنے مشن کا دائرہ محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کیساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد امریکا مشرق وسطیٰ میں اپنے ٓپریشنز کے لیے غیر ضروری عملے اور فوجی اڈوں سے اہلکاروں کو واپس بلا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار نے ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کو بتایا کہ صدر ٹرمپ امریکیوں کو گھر اور بیرون ملک دونوں جگہ محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، اسی عزم کے تحت ہم مسلسل اپنے سفارت خانوں میں مناسب عملے کی تعیناتی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں، تازہ ترین تجزیے کی بنیاد پر ہم نے عراق میں اپنے مشن کی موجودگی کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے رپورٹرز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ کچھ امریکی اہلکاروں کو مشرق وسطیٰ سے نکالا جا رہا ہے، کیوں کہ یہ ایک خطرناک جگہ ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن میں کینیڈی سینٹر میں ’Les Miserables‘ دیکھنے سے پہلے انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، ہم نے اطلاع دے دی ہے، ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین اور کویت سے بھی غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دی ہے، جس سے انہیں ملک چھوڑنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ کے مختلف مقامات سے فوجی اہلکاروں کے اہلِ خانہ کی رضاکارانہ روانگی کی منظوری دے دی ہے، ایک اور اہلکار نے کہا کہ یہ فیصلہ زیادہ تر ان خاندانوں کے لیے اہم ہے، جو بحرین میں مقیم ہیں، کیوں کہ وہاں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کے خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی تھی، جب امریکا اور ایران کے درمیان اس کے تیزی سے ہونے والے جوہری پروگرام پر مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
2 امریکی اہلکاروں نے بتایا کہ کشیدگی کے پیش نظر امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا (جو مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کی نگرانی کرتے ہیں) نے جمعرات کو امریکی قانون سازوں کے سامنے اپنی پیشی ملتوی کر دی۔
جنرل مائیکل کوریلا کو سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہونا تھا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ مذاکرات ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے میں امریکا کی طرف سے عائد کی گئی سخت اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے بدلے میں ہو رہے ہیں، ایران اصرار کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔
مذاکرات کے چھٹے دور کا عارضی طور پر اس ہفتے کے آخر میں عمان میں طے تھا، تاہم اس حوالے سے واقف امریکی اہلکاروں نے بدھ کو کہا کہ مذاکرات کے انعقاد کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
ایک امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بعد میں بتایا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اتوار کو عمان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے، اور حالیہ امریکی جوہری معاہدے کی تجویز پر ایران کے جواب پر بات کریں گے۔
صدر ٹرمپ اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ایران کے خلاف فوجی طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربلال اظہر کیانی کو وزیر مملکت برائے خزانہ کا اضافی قلمدان دیدیا گیا جنگ مسلط کی گئی تو امریکی اڈے نشانے پر ہوں گے، ایرانی وزیر دفاع اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل مسترد، نیتن یاہو کیخلاف اپوزیشن کو ناکامی وزیراعظم اماراتی صدر کی دعوت پر اعلیٰ حکومتی وفد کے ہمراہ ابوظہبی روانہ وزیراعظم نے چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی و دیگر کی تنخواہوں میں اضافے کا نوٹس لے لیا چیئر مین سی ڈی اے کی بقایا جات کی وصولی کیلئے جامع پلان تشکیل دینے کی ہدایت پاکستانی پارلیمانی وفد نیویارک اور لندن کے کامیاب دوروں کے بعد برسلز پہنچ گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران کی جوہری تنصیبات پر کسی بھی
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم