Juraat:
2026-06-03@02:28:48 GMT

وفاقی بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ اور فراڈ قرار( حافظ نعیم)

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

وفاقی بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ اور فراڈ قرار( حافظ نعیم)

بجلی کی قیمت کم، پیٹرول لیوی ختم کی جائے ،ایک سو گیارہ محکموں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینا افسوس ناک ہے
ایف بی آر محکمہ ختم اور سود کی شرح آدھی کر دی جائے تو ٹیکس زیادہ جمع ہونگے، قرض ختم ہوجائیگا،پریس کانفرنس

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی بجٹ کو الفاظ کا گورکھ دھندہ اور فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی کارکردگی سے ہم غربت کی لکیر سے چار فیصد نیچے آ گئے ہیں گیارہ کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔حکومت اور اپوزیشن اپنی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کررہے ہیں۔ایک سو گیارہ محکموں کو کو ٹیکس سے مستثنی قرار دینااور سپیکر و چیرمین سینٹ کی تنخواہوں میں چھ سو فیصد اضافہ افسوس ناک ہے۔سولر سسٹم پر بھی18 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا , ایک دوسرے کو گالیاں دینے والے اپوزیشن و حکومت مل کراپنی تنخواہیں و مراعات بڑھا لیتے اور م مڈل کلاس کی زندگی اجیرن کردیتے ہیں، کرپشن ذدہ ایف بی آر کا محکمہ ختم ہوجائے تو ٹیکسز زیادہ جمع ہوں گے اور قرض ختم ہوجائے گا، بے نظیر انکم سپورٹ ووٹ بینک اور کرپشن کیلئے استعمال کیا جا تا ہے، سات سو ارب روپے کرپشن کا دھندہ ہے جسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کی جاتا ہے جس کی تحقیقات اور آڈٹ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت گروتھ اعشاریہ چار پانچ فیصد رہ گئی ہے یہ کسانوں کے ساتھ ظلم کا نتیجہ ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی قیمت کم پیٹرول لیوی ختم کی جائے ۔بلاول بھٹو کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ را بلوچستان میں دہشت گردی کررہا ہے پاکستان کو کمزور کررہا ہے کیا اب ہم ان سے بات کریں گے جو خود دہشت گردی کرتا ہے۔بلاول بھٹو کو سنجیدہ ہوکر سفارتی محاذ پر کشمیر کے متعلق بات کرنی چاہیٔے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: انہوں نے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم