وفاقی بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ اور فراڈ قرار( حافظ نعیم)
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
بجلی کی قیمت کم، پیٹرول لیوی ختم کی جائے ،ایک سو گیارہ محکموں کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینا افسوس ناک ہے
ایف بی آر محکمہ ختم اور سود کی شرح آدھی کر دی جائے تو ٹیکس زیادہ جمع ہونگے، قرض ختم ہوجائیگا،پریس کانفرنس
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے وفاقی بجٹ کو الفاظ کا گورکھ دھندہ اور فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی کارکردگی سے ہم غربت کی لکیر سے چار فیصد نیچے آ گئے ہیں گیارہ کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔حکومت اور اپوزیشن اپنی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کررہے ہیں۔ایک سو گیارہ محکموں کو کو ٹیکس سے مستثنی قرار دینااور سپیکر و چیرمین سینٹ کی تنخواہوں میں چھ سو فیصد اضافہ افسوس ناک ہے۔سولر سسٹم پر بھی18 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا , ایک دوسرے کو گالیاں دینے والے اپوزیشن و حکومت مل کراپنی تنخواہیں و مراعات بڑھا لیتے اور م مڈل کلاس کی زندگی اجیرن کردیتے ہیں، کرپشن ذدہ ایف بی آر کا محکمہ ختم ہوجائے تو ٹیکسز زیادہ جمع ہوں گے اور قرض ختم ہوجائے گا، بے نظیر انکم سپورٹ ووٹ بینک اور کرپشن کیلئے استعمال کیا جا تا ہے، سات سو ارب روپے کرپشن کا دھندہ ہے جسے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کی جاتا ہے جس کی تحقیقات اور آڈٹ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت گروتھ اعشاریہ چار پانچ فیصد رہ گئی ہے یہ کسانوں کے ساتھ ظلم کا نتیجہ ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی قیمت کم پیٹرول لیوی ختم کی جائے ۔بلاول بھٹو کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ را بلوچستان میں دہشت گردی کررہا ہے پاکستان کو کمزور کررہا ہے کیا اب ہم ان سے بات کریں گے جو خود دہشت گردی کرتا ہے۔بلاول بھٹو کو سنجیدہ ہوکر سفارتی محاذ پر کشمیر کے متعلق بات کرنی چاہیٔے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ