نیپال حکومت نے عوامی احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کٹھمنڈو (نیوز ڈیسک) نیپال حکومت نے ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں 19 افراد کی ہلاکت کے بعد فیس بک سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد پابندی ختم کردی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے نیپال میں فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر یہ پابندی جعلی اکاؤنٹس، نفرت انگیز مواد، جھوٹی خبریں اور آن لائن فراڈ کے پھیلاؤ کے باعث لگائی گئی تھی۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف دارالحکومت کٹھمنڈو میں ہزاروں نوجوانوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شدید احتجاج کیا۔
مظاہرین نے رکاوٹیں توڑنے اور عمارت کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے واٹر کینن، لاٹھی چارج اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 19 مظاہرین ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق ہلاکتوں کے بعد پیر کی رات حکومت نے ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں مظاہرین کے مطالبات پر غور کے بعد سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی معاونت اور زخمیوں کے مفت علاج کا اعلان بھی کیا۔
Post Views: 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔