نیپال حکومت نے عوامی احتجاج کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
کٹھمنڈو: نیپال حکومت نے ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں 19 افراد کی ہلاکت کے بعد فیس بک سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد پابندی ختم کردی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے نیپال میں فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر یہ پابندی جعلی اکاؤنٹس، نفرت انگیز مواد، جھوٹی خبریں اور آن لائن فراڈ کے پھیلاؤ کے باعث لگائی گئی تھی۔ تاہم اس فیصلے کے خلاف دارالحکومت کٹھمنڈو میں ہزاروں نوجوانوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شدید احتجاج کیا۔
مظاہرین نے رکاوٹیں توڑنے اور عمارت کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے واٹر کینن، لاٹھی چارج اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 19 مظاہرین ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق ہلاکتوں کے بعد پیر کی رات حکومت نے ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں مظاہرین کے مطالبات پر غور کے بعد سوشل میڈیا پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین کی مالی معاونت اور زخمیوں کے مفت علاج کا اعلان بھی کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا