بیک وقت اُڑنے اور چلنے والے ڈرونز
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
کیلیفورنیا اسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے بیک وقت اُڑنے اور چلنے والے ڈرونز تیار کرلیے ہیں۔
ماہرین نے ان ڈرونز کو اسکیٹ بورڈ پر چلانے، سلیک لائن پر چلانے، یا کھیل یا بگاڑ کی صورت میں منڈلانے کے قابل بنایا گیا ہے ۔
ماہرین نے سب سے پہلے LEO نامی دو ٹانگوں والا ایک بائی پیڈل روبوٹ ڈرون متعارف کرایا۔ یہ پروپیلرز کی مدد سے اپنے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے چل بھی سکتا ہے اور منڈلا بھی سکتا ہے
اسی طرح ان میں سے ایک RAVEN نامی فکسڈ‑وِنگ فلائیروٹ ڈرون ہے جس میں پرندوں جیسی ٹانگیں بلگی ہیں۔ یہ غیرشفاف زمین پر چل سکتا ہے، رکاوٹیں عبور کر سکتا ہے، اور معمولی جمپ کے ذریعے اُڑ سکتا ہے۔
تیسرے نمبر پر آٹھ کواڈکاپٹرز ہیں۔ یہ ڈرونز ایک ساتھ کام کرتے ہوئے نہ صرف اُڑ سکتے ہیں بلکہ زمین پر ڈرائیو بھی کر سکتے ہیں۔
ان ڈرونز کا مقصد ایسے ماحول میں موثر حرکات فراہم کرنا ہے جہاں رکاوٹیں ہوں یا تنگ مقامات ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سکتا ہے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔