لندن (اوصاف) سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے قریبی ساتھی اور سابق وزیر کے برطانیہ میں‌تمام اثاثہ جات منجمد کردیئے . برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بنگلہ دیش کی حکمران جماعت عوامی لیگ کے قریبی وزیر اور سابق مشیرِ اعظم، سیف الزمان کے 11 ملین پاؤنڈز مالیت کے غیر ملکی اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ اس اقدام نے شیخ حسینہ حکومت کے گرد کرپشن کے الزامات کا دائرہ مزید تنگ کر دیا ہے۔

نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیف الزمان کے خلاف مالی بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور سرکاری خزانے کے ناجائز استعمال کے سنگین شواہد سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیف الزمان نے 12 ہزار ڈالر سالانہ حد کے باوجود 500 ملین ڈالر خرچ کیے۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سیف الزمان کے دنیا بھر میں 350 سے زائد جائیدادوں اور اثاثوں کا سراغ لگایا جا چکا ہے، جن میں سے بیشتر کو خفیہ رکھا گیا تھا۔ ان اثاثوں کی خریداری اور سرمایہ کاری کے ذرائع مشکوک پائے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق برطانوی ایجنسی صرف سیف الزمان تک محدود نہیں، بلکہ عوامی لیگ کے دیگر قریبی وزراء کی غیر ملکی جائیدادوں اور مبینہ کرپشن کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی طرز پر کرپشن کے عناصر کو ریاستی سرپرستی دی، جس کا نتیجہ اب عالمی سطح پر بنگلہ دیش کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔
ہمالیہ کی گھاٹیوں سے فولادی بھائیوں تک

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سیف الزمان کے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت