ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان ایران پر اسرائیل کے غیرقانونی حملے کی مذمت کرتا ہے۔
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کاحق حاصل ہے۔
اسرائیلی حملہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتی روز اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کیا ہے۔
ایران کے جوابی حملے میں ڈیڑھ سو سے زیادہ میزائل داغ دیے، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے، عمارتوں سمیت 7 مقامات کونشانہ بنایا گیا، میزائل گرنے سے آگ بھڑک اٹھی،48 اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔
ایران کی جانب سے آپریشن کو وعدہ صادق سوم کا نام دے دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیلی فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس روک دی گئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع ہیڈکوارٹرز کے قریب آگ لگ گئی۔
ایران نے اسرائیلی خاتون پائلٹ کی گرفتاری اور 2 اسرائیلی طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ یہ ایف 35 اسٹیلتھ طیارے تھے۔
اسرائیلی فوج کی تردید بھی سامنے آگئی ہے۔ اسرائیلی صحافی کا کہنا ہے کہ تل ابیب میں اسرائیلی فوجی ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، یہاں اسرائیلی فوج کا اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن بھی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اسرائیل کےدرجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، ہزاروں ایرانی شہریوں کا سڑکوں پر جشن، افواج کےحق میں نعرے بھی لگائے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔