ایران کا اسرائیل پر جوابی حملہ، 150 میزائل داغ دیے، 7 اسرائیلی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کر دیا، 150 کے قریب میزائل داغ دیے۔
اسرائیلی میڈیا نے ایران کے حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ دارالحکومت تل ابیب میں دھماکوں کی آواز سنی گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق حملوں میں ایرانی حملوں میں اب تک 7 اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ ایران نے بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے، ایران نے جوابی کارروائی شروع کی ہے۔
خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حملے کے بعد تل ابیب میں سائرن بجنے لگے، شہریوں کی بڑی تعداد بنکروں میں چلی گئی۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے اصفہان میں نیوکلیئر تنصیب کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے ایرانی عوام سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی حملوں کا جواب دینے میں کوئی کوتاہی برتی نہیں گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج اسرائیل کو مفلوج کر کے دم لیں گی، صہیونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے۔
خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ صہیونی ریاست کو اپنے جرائم کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، اسرائیل سزا سے بچ نہیں سکے گا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔