Islam Times:
2026-07-24@01:25:46 GMT

اسرائیل کو ایران کا سخت جواب حتمی ہے، سید عباس عراقچی

اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT

اسرائیل کو ایران کا سخت جواب حتمی ہے، سید عباس عراقچی

اپنے قبرصی ہم منصب کیساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ نے قابض صیہونی رژیم کیخلاف ایران کے سخت ردعمل کو قطعی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ہم اپنی خود مختاری، عوام اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے گہرے عزم کیساتھ کام کر رہے ہیں اور اس قابض رژیم کی غیر قانونی و بزدلانہ جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینگے! اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج سہ پہر اپنے قبرصی ہم منصب کونسٹانٹینوس کامپوس (Constantinos Kombos) کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف غاصب صیہونی رژیم کے جارحانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سفارتکاری کے استعمال پر زور دیا ہے۔ اس گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ نے جوہری تنصیبات پر صیہونی رژیم کے مجرمانہ حملوں اور بے گناہ لوگوں کی شہادت و اعلی سطحی سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور غاصب صیہونی رژیم کے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کے "سخت ردعمل" کو یقینی قرار دیتے ہوئے تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خود مختاری، عوام اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے گہرے عزم کیساتھ کام کر رہا ہے اور جعلی صیہونی رژیم کی اس بزدلانہ جارحیت کا پوری قوت کے ساتھ فیصلہ کن جواب دے گا۔ سید عباس عراقچی نے تاکید کی کہ ہم بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی صریح خلاف ورزی پر مبنی ان جرائم و جارحانہ اقدامات کی بین الاقوامی اداروں کے ذریعے بھی پیروی کریں گے۔ اپنی گفتگو کے آخر میں انہوں نے قبرص کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض صیہونی رژیم کے جرائم و وحشیانہ حملوں کو روکنے کے لئے یورپی ممالک پر دباؤ ڈالے!

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صیہونی رژیم کے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم