اسرائیل کے ایران پر حملے کے خطے پر کیا اثرات پڑیں گے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق اسرائیل کے حالیہ فضائی حملوں میں 70 سے زائد افراد جاں بحق اور 320 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ایرانی حکام نے اسرائیلی حملے کو ’اعلانِ جنگ‘ قرار دیتے ہوئےمبینہ طور پر 100 سے زائد ڈرونز فوری طور پر اسرائیل کی جانب بھیجے جن میں سے بیشتر کو اسرائیل نے فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے ڈرون حملوں کی تردید کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم نوازشریف کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
وی نیوز نے تجزیہ کاروں سے گفتگو کی اور ان سے یہ جاننے کی کوشش کی اسرائیل کے ایران پر حملے کے خطے پر کیا اثرات پڑیں گے؟
بیورو چیف ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا پاکستان آفس افضل رضا نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے اس وقت ایران پر حملے کیے ہیں کہ جب 3 یورپی ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ جو کہ جوہری معاہدے کے فریق ہیں نے ایران جوہری ہتھیاروں سے متعلق اسرائیلی انٹیلیجنس کے جھوٹے ثبوت کی بنیاد پر گزشتہ روز انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی میں قرارداد منظور کی اور راہ ہموار کی گئی کہ اسرائیل ایران پر حملہ کر سکے اور اسرائیل نے آج ایران پر بھرپور حملے کردیے۔
مزید پڑھیے: اسرائیل کے حملے سے قبل موساد ایجنٹوں نے ایران میں کیا کارروائی کی؟
انہوں نے کہا کہ ایران سنہ 2018 سے حالت جنگ میں ہے اور غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تاکہ وہ اپنی جنگ دیگر ملکوں میں پھیلا سکے۔
افضل رضا نے کہا کہ اسرائیل نے امریکا کو شامل کر کے ایران پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری نے ماضی میں بھی ایران پر اسرائیلی حملوں پر کچھ نہیں کیا اور خاموش تماشائی بنی رہی اور آج بھی ایسا ہی ہے لیکن میں سلام پیش کرتا ہوں پاکستانی حکومت کو کہ انہوں نے ایران کی سپورٹ کی ہے اور کہا ہے کہ ایران جواب کا حق رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ساری دنیا یہ سوچ رہی ہے کہ آگے کیا ہو گا، اب امریکا کو چاہیے کہ اس نے جو جانور پالا ہوا ہے جو مشرقی وسطیٰ میں تباہی کر رہا ہے اسے لگام دے۔
سینیئر تجزیہ کار اعزاز سید نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے جو ایران پر حملہ کیا ہے وہ صرف ایران کے لیے خطرناک بات نہیں ہے بلکہ پورے خطے کے لیے سیاسی، سیکیورٹی اور مالی طور پر بڑی خطرناک بات ہے اور اس بات کا بڑا امکان ہے کہ اب خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔
مزید پڑھیں: ایران پر اسرائیلی حملے بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، افغانستان
اعزاز سید نے کہا کہ دوسرے نمبر پر ایران کے اندر سیاسی عدم استحکام کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی اور ایران کے اندر جو موجودہ حکمران طبقہ پاسداران ہیں، مغربی دنیا کافی عرصے سے چاہتی ہے پاسداران کی حکومت ختم ہو۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر جو بھی کارروائی ہوتی ہے اور اگر اس میں تواتر آتا ہے تو ارد گرد ممالک بالخصوص پاکستان کے پر اس کے اثرات پڑیں گے۔
اعزاز سید کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کی 909 کلومیٹر لمبی سرحد ہے، وہاں پر 50 ہزار کے قریب پاکستانی موجود ہیں تو حملوں کے اثرات تو پڑیں گے اور وہاں موجود ایرانی اور پاکستانی بھی تنگ آ کر واپس پاکستان آئیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی تو خیر آ سکتے ہیں لیکن ایرانی بھی پاکستان داخل ہونے کی کوشش کریں گے جس سے پاکستان کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے: تہران پر اسرائیلی حملوں میں 78 افراد کے شہید، 329 زخمی ہوئے، ایرانی میڈیا
سابق سفارتکار اور سینیئر تجزیہ کار ظفر ہلالی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا ایران پر حملے کرنا نئی جنگ کا اعلان ہے جس سے ہمارا پورا خطہ بری طرح سے متاثر ہو گا۔
ظفر ہلالی نے کہا کہ اسرائیل اس وقت تک حملے جاری رکھے گا جب تک اس کو یہ خطرہ ہے کہ ایران ایٹمی طاقت بن سکتا ہے یا ایران ایٹمی طاقت بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیے: ایران پر اسرائیل کا حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، بنگلہ دیش
انہوں نے نے کہا کہ پاکستان نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ایران پر حملہ کر کے اسرائیل نے ظلم کیا ہے اور پاکستان اس ظلم کی پر زور مذمت کرتا ہے۔
ظفر ہلالی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان جو بارڈر ہے اس پر حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے لہٰذا عالمی دنیا کو چاہیے کے وہ اسرائیلی جارحیت کو روکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل اسرائیل کا ایران پر حملہ ایران.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسرائیل کا ایران پر حملہ ایران انہوں نے کہا کہ کہا کہ اسرائیل ایران پر حملے ایران پر حملہ اسرائیل نے پر اسرائیل اسرائیل کے کہ پاکستان کہ ایران ایران کے نے ایران ایران کی کی کوشش پڑیں گے ہے اور
پڑھیں:
قابلِ فخر سعد ایدھی
کراچی ایئرپورٹ پر 23 ء مئی کو ایک ہجوم جمع تھا۔ اس ہجوم کے شرکاء جس میں مرد ، عورتیں، جوان اور بچے شامل تھے، سعد ایدھی کے استقبال کے لیے دور دراز علاقوں سے ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ اس ہجوم میں فیصل ایدھی اور ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جو اپنے بیٹے کے استقبال کے لیے آئی تھیں۔ا ن کے ساتھ سعد ایدھی کی اہلیہ بھی تھی جن کی گود میں تین ماہ کی بچی بھی تھی۔ فیصل اپنے والد عبدالستار ایدھی کی روایت کے امین ہیں۔ عبدالستار ایدھی نے بہادری کے ساتھ انسانوں کی مدد کرنے کی زندہ مثالیں قائم کی تھیں۔ فیصل کو فخر ہے کہ ان کا بیٹا ان کے والد کے راستے پر گامزن ہے۔
سعد ایدھی اسرائیل کے کنسرٹیشن کیمپ سے رہا ہو کر ترکیہ پہنچے تھے تو استنبول سے کراچی آرہے تھے۔ سعد ایدھی نے جب فلوٹیلا میں سفر کر کے اسرائیل کا محاصرہ توڑ کر غزہ جانے کا فیصلہ کیا تھا تو ایدھی خاندان کے لیے ایک بری خبر تھی اور اس خبر کا ایک واضح پس منظر تھا۔ چند ماہ قبل ایک اور فلوٹیلا میں سوار ہو کر 430 کے قریب رضاکار غزہ روانہ ہوئے تھے تو اسرائیل کی نیوی نے بین الاقوامی سمندر میں فلوٹیلا پر فائرنگ کی تھی اور توپوں کے گولے پھینکے تھے۔
اسرائیلی فوجوں نے اس فلوٹیلا کے قافلے میں سوار افراد کو گرفتار کر کے بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور عام خیال تھا کہ اس دفعہ اسرائیل کی نیوی فلسطینی شہریوں سے یکجہتی کے لیے آنے والے افراد کو ہلاک کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ ایدھی خاندان کی خواتین سخت پریشان تھیں مگر سعد ایدھی کے والد فیصل ایدھی نے اپنے بیٹے کو اس خطرناک مشن پر جانے سے نہیں روکا تھا، یوں سعد کا حوصلہ بہت بلند ہوگیا تھا۔
غزہ کا علاقہ فلسطین میں شامل ہے۔ فلسطین کے دو حصے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے متصل ہیں۔ غزہ کی سرحد ایک طرف مصر سے ملتی ہے تو جنوبی مغرب میں اسرائیل ہے اور مشرق اور جنوب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ بحیرہ روم جس کو انگریزی میں Mediterraneen Sea کہا جاتا ہے، یہ افریقہ، یورپ اور ایشیا کے درمیان سمندر ہے جو تقریباً چاروں طرف سے زمین پر بھی گھرا ہوا ہے۔
یہ صرف وہاں سے کھلا ہوا ہے جہاں اسپین اور فرانس آمنے سامنے ہیں اور درمیان میں چند کلومیٹر کا سمندر بحیرہ روم کے شمال میں یورپ، جنوب میں افریقہ اور مشرق میں ایشیا موجود ہے۔ بحیرہ روم 2.5 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بہت برسوں سے فلسطین کے تمام علاقوں کا بحیرہ روم کے راستہ کا گھیراؤ کیا ہوا ہے۔ غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوںمیں آباد عرب باشندوں کو بحیرہ روم میں نقل و حمل کی اجازت نہیں ہے۔ فلسطین سے محبت کرنے والے سماجی کارکن جن میں یورپ، امریکا، ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکا کے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کو ختم کرایا جائے۔
ان کارکنوں نے فلوٹیلا میں شامل بہت سے چھوٹے جہازوں کا کاررواں کے ذریعے جس میں دنیا بھر کے سماجی و سیاسی کارکن، صحافی اور خواتین شامل ہیں نے غزہ کے ساحل پر پہنچنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ یہ کارکن اپنے خرچہ پر ترکیہ میں جمع ہوتے ہیں اور پھر یہ قافلہ بحیر ئہ روم سے گزرتا ہوا غزہ کے قریب پہنچتا ہے۔ پہلے تو اسرائیلی فوجیں غزہ کے قریب فلوٹیلا سے جہازوں میں سوار افراد کو بندرگاہ سے ہی نکال دیتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کا رویہ غیر انسانی ہوتا گیا۔ سعد ایدھی ترکیہ کی بندرگاہ Marmaris Port سے روانہ ہوئے تھے۔ ابھی یہ قافلہ فلسطین اور اسرائیل سے بہت دور بین الاقوامی سمندر میں پہنچا تھا کہ اسرائیل کی گن بوٹس نے فلوٹیلا کے جہازوں پر مارٹر توپ کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔ پھر ان فوجیوں نے ربڑ کی گولیاں چلانا شروع کردیں ۔
بین الاقوامی سمندر میں اسرائیل کی اس جارحیت کا کئی جواز نہیں تھا مگر پھر یہ فوجی چھوٹے جہازوں میں کود گئے اور فلوٹیلا کے جہازوں میں رضاکاروں کی کی آنکھوں میں پٹیاں باندھ دی گئیں اور جب یہ لوگ بندرگاہ پر پہنچے تو فلوٹیلا میں شامل 450 افراد کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل تھے گھسیٹ گھسیٹ کر چھوٹی سی جیل میں دھکیل دیا گیا۔ سعد ایدھی نے کراچی میں بتایا کہ تمام لوگوں کو مسلسل مرغے بنا کر رکھا گیا۔ اسرائیلی فوجی ان رضاکاروں پر بندوق کے پٹ سے حملہ کرتے رہے اور خاص طور پر گھٹنوں اور پسلیوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ کئی افراد کی پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
Global Sumud Flotilla کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجیوں نے کم از کم 15 افراد کو جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ ان منتظمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کے فوجی دستے نے ایک جہاز کو کنسرٹیشن کیمپ میں تبدیل کیا اور اس جہاز کے گرد خاردار تار لگادیئے گئے۔ پھر اس عارضی جیل میں کم گنجائش کے باوجود 450کے قریب رضاکاروں کو رکھا گیا۔ آسٹریلین ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے جانوروں سے زیادہ بدتر سلوک کیا ۔ اٹلی کے ماہرمعاشیات نے اسرائیلی فوج کے بدترین سلوک کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں 24 گھنٹوں کے دوران بار بار تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کئی دفعہ رضاکاروں کو زمین پر گھسیٹا گیا ، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انھیں پینے کے لیے پانی تک نہیں دیا گیا۔
سعد ایدھی نے بتایا کہ دون دن کی قید کے دوران صرف ایک ایک بوتل پانی دیا گیا۔ پھر تقریباً ہر رضاکار کے گھٹنوں کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک رضا کار لڑکی کے بال کھینچے اور یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تو یورپ میں شدید احتجاج ہوا۔ فرانس کی حکومت نے اسرائیلی وزیر دفاع کا ویزا منسوخ کردیا۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اسرائیل کے رضاکاروں پر تشدد کی شدید مذمت کی۔ برطانیہ، جرمنی، اسپین اور دنیا بھر کے دیگر ممالک نے مظلوم رضاکاروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اسرائیل کی حکومت کو اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ایشیائی اور افریقی ممالک کے علاوہ برطانیہ ، فرانس اور جرمنی وغیرہ بھی اسرائیل کی انسان دشمن پالیسیوں کے خلاف اتنا سخت ردعمل ظاہر کریں گے۔اس فلوٹیلا کے 50 جہازوں میں زیادہ تعداد اسپین اور دیگر یورپی ممالک کے باشندوں کی تھی۔ یہ لوگ اسرائیل کے جرائم کو آشکار کرنے کے لیے فلوٹیلا کے جہازوں میں سوار ہوئے تھے۔
انھیں اگرچہ اپنے مشن کی کامیابی کی زیادہ امید نہیں تھی مگر انسانیت کی خاطر اور غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے یہ تمام افراد اس فلوٹیلا کا حصہ بنے تھے۔ اس فلوٹیلا میں شریک سماجی کارکنوں نے اسپین کی خانہ جنگی کی یاد تازہ کردی۔ جب اسپین کے فاشسٹ جنرل فرانکو کی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والے اس بریگیڈ میں دنیا بھر کے ادیب، شاعر اور دانشور شامل ہوئے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوٹیلا کے رضاکاروں پر اسرائیلی فوج کے بیہمانہ سلوک کے خلاف عالمی عدالت انصاف فوری طور پر کارروائی کرے اور اسرائیل کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔
فلسطین کے لیے جدوجہد کرنے والے یہ مختلف ممالک کے کارکن صرف فلسطین کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ سعد ایدھی پر پوری قوم کو فخر ہے۔ سعد ایدھی اور دیگر انسانی حقوق کے کارکنوں نے جو جدوجہد کی ہے، وہ وقت جلد آئے گاجب اس جدوجہد کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور فلسطین ایک متحدہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشہ پر ابھرے گا۔