اسلام آباد:

وفاقی حکومت سیلاب متاثرین کو بڑا ریلیف دینے کی تیاری  کررہی ہے، اس حوالے سے تجاویز تیار کرلی گئی ہیں، جس کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی بلوں پر جنرل سیلز ٹیکس، ایف سی سرچارج اور فکس چارجز ختم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں جب کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جنرل سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ بجلی بلوں پر انکم ٹیکس، فاضل ٹیکس اور ریٹیلر سیلز ٹیکس بھی ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں ٹیکسز فوری طور پر معاف کیے جائیں گے۔ بجلی بلوں میں ریلیف وفاقی حکومت فراہم کرے گی جب کہ لینڈ ریونیو کے ٹیکس صوبائی حکومتیں معاف کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں اضافی بلوں کا نوٹس لیا جائے گا کیونکہ یہ وہ بل ہیں جو پہلے ہی پرنٹ ہو چکے تھے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے فصلوں اور مویشیوں کے نقصان کے ازالے کے لیے کسان پیکیج لانے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس کا اعلان سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا، یہ سروے آئندہ 7 سے 10 روز میں سروے مکمل کر لیا جائے گا جبکہ ابتدائی ڈیٹا کے مطابق سیلاب کے باعث فصلوں کو ایک سے 3 فیصد تک نقصان پہنچا ہے۔

رانا تنویر حسین  نے کہا کہ سیلاب کے دوران سب سے زیادہ نقصان چاول کی فصل کو ہوا ہے، خاص طور پر گجرانوالہ ڈویژن میں جہاں 18 فیصد تک فصلیں متاثر ہوئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا