سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں پر بڑے ریلیف کا فیصلہ، ٹیکسز ختم کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کو بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں جنرل سیلز ٹیکس، ایف سی سرچارج اور فکس چارجز ختم کرنے پر غور جاری ہے۔
دوسری جانب فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جی ایس ٹی اور ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے سیلاب متاثرین کو کتنے لاکھ روپے دیے جائیں گے؟ ریلیف کمشنر نے بتا دیا
اس کے علاوہ انکم ٹیکس، اضافی ٹیکسز اور ریٹیلر سیلز ٹیکس کو بھی ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا حتمی اعلان جلد متوقع ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار اور غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے تصدیق کی کہ سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں پر ٹیکسز فوری طور پر معاف کیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بلوں پر ریلیف دے گی جبکہ لینڈ ریونیو کی معافی صوبائی حکومت کرے گی۔
مزید پڑھیں: سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع اور زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، بلاول بھٹو
انہوں نے واضح کیا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے اضافی بلوں کا نوٹس لیا جائے گا، کیونکہ یہ وہ بل ہیں جو سیلاب سے پہلے ہی پرنٹ ہو چکے تھے۔
وفاقی حکومت نے کسانوں کے لیے خصوصی پیکیج لانے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ فصلوں اور مویشیوں کے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:پنجاب میں تاریخی ریسکیو آپریشن، وزیر اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے بڑے ریلیف پیکج کا اعلان متوقع
رانا تنویر حسین کے مطابق سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے آئندہ 7 سے 10 دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد کسان پیکیج اور نقصانات کے بارے میں تفصیلات کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ فصلوں کے نقصان کا ابتدائی ڈیٹا پہلے ہی مرتب کیا جا چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف سی سرچارج بجلی جنرل سیلز ٹیکس رانا تنویر حسین ریلیف فکس چارجز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف سی سرچارج بجلی جنرل سیلز ٹیکس رانا تنویر حسین ریلیف فکس چارجز فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سیلاب متاثرین
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔