اسرائیلیوں پر زندگی تلخ ہو جائے گی، اب انکو بھاگنے کی اجازت نہیں دیں گے، سپریم لیڈر کا اعلان جنگ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران نے اسرائیل کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد بیلسٹک میزائل داغ دیے، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 15 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے، ایرانی کارروائی کے ساتھ ہی ملک بھر میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور جشن منایا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی “آپریشن وعدہ صادق 3” کے نام سے شروع کی گئی، جس کے دوران پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت علی خامنہ ای نے اس موقع پر قوم سے اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “صہیونی ریاست کو اپنے جرائم کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، ہم ان کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
آیت علی خامنہ ای نے کہا کہ صیہونی حکومت نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے اور اس کے نتائج بہت ہی برے ہوں گے، ایرانی قوم اپنے قیمتی شہدا کے خون کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دے گی۔
انہوں نےمزید کہا کہ ہماری مسلح افواج تیار ہیں اور قوم متحد ہو کر ان کے پیچھے کھڑی ہے، آج ہر ایرانی یہ محسوس کرتا ہے کہ صہیونی دہشتگردوں کے خلاف بھرپور طاقت سے کارروائی کا وقت آ چکا ہے۔ ہم جواب دیں گے اور دشمن پر سخت ضربیں لگائیں گے۔
آیت خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیلیوں پر زندگی بلاشبہ تلخ ہو جائے گی، یہ مت سمجھیں کہ انہوں نے حملہ کیا اور بچ نکلے، یہ جنگ انہوں نے خود شروع کی ہے، اب انہیں بھاگنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
خیال رہےکہ ایرانی فضائی دفاع نے اسرائیل کے دو جنگی طیارے مار گرائے، جن میں سے ایک طیارے کی خاتون پائلٹ کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے، ان دعوؤں کی تاحال ایران یا اسرائیل کی جانب سے تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
ایران میں اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد عوام نے مختلف شہروں میں جشن منایا۔ سڑکوں پر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، “اللہ اکبر” کے نعرے لگائے گئے اور قومی پرچم لہراتے ہوئے ایران کی مسلح افواج کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔