اسرائیلیوں پر زندگی تلخ ہو جائے گی، اب انکو بھاگنے کی اجازت نہیں دیں گے، سپریم لیڈر کا اعلان جنگ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران نے اسرائیل کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 100 سے زائد بیلسٹک میزائل داغ دیے، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 15 اسرائیلی شہری زخمی ہوئے، ایرانی کارروائی کے ساتھ ہی ملک بھر میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور جشن منایا گیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ کارروائی “آپریشن وعدہ صادق 3” کے نام سے شروع کی گئی، جس کے دوران پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت علی خامنہ ای نے اس موقع پر قوم سے اہم خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “صہیونی ریاست کو اپنے جرائم کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا، ہم ان کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
آیت علی خامنہ ای نے کہا کہ صیہونی حکومت نے ایک بہت بڑی غلطی کی ہے اور اس کے نتائج بہت ہی برے ہوں گے، ایرانی قوم اپنے قیمتی شہدا کے خون کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دے گی۔
انہوں نےمزید کہا کہ ہماری مسلح افواج تیار ہیں اور قوم متحد ہو کر ان کے پیچھے کھڑی ہے، آج ہر ایرانی یہ محسوس کرتا ہے کہ صہیونی دہشتگردوں کے خلاف بھرپور طاقت سے کارروائی کا وقت آ چکا ہے۔ ہم جواب دیں گے اور دشمن پر سخت ضربیں لگائیں گے۔
آیت خامنہ ای نے کہا کہ اسرائیلیوں پر زندگی بلاشبہ تلخ ہو جائے گی، یہ مت سمجھیں کہ انہوں نے حملہ کیا اور بچ نکلے، یہ جنگ انہوں نے خود شروع کی ہے، اب انہیں بھاگنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
خیال رہےکہ ایرانی فضائی دفاع نے اسرائیل کے دو جنگی طیارے مار گرائے، جن میں سے ایک طیارے کی خاتون پائلٹ کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے، ان دعوؤں کی تاحال ایران یا اسرائیل کی جانب سے تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
ایران میں اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد عوام نے مختلف شہروں میں جشن منایا۔ سڑکوں پر شہریوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، “اللہ اکبر” کے نعرے لگائے گئے اور قومی پرچم لہراتے ہوئے ایران کی مسلح افواج کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔