اسلام آباد ہائیکورٹ: بار بار التوا کی درخواست پر نجی بینک پر ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ عائد
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملازمین کی پنشن سے متعلق کیس میں بار بار التوا کی درخواست پر نجی بینک پر ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کا دو صفحات کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ جرمانے کی رقم دو ہفتے میں درخواست گزاروں کو ادا کی جائے۔
حکم نامے کے مطابق نجی بنک کے وکیل نے سپریم کورٹ میں ہونے کی وجہ سے التوا کی تحریری درخواست دی۔
حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ بار بار التوا پر 27 جون 2024 کو بھی نجی بنک کو 50 ہزار جرمانہ ہو چکا ہے، نجی بنک کی جانب سے 50 ہزار روپے بھی درخواست گزاروں کو نہیں دیے گئے۔
عدالت نے 24 جون 2024 کے اپنے آرڈر میں لکھا تھا کہ نجی بنک یقینی بنائے گا کہ اس کا وکیل آئندہ سماعت پر دلائل دے، عدالتی حکم یہ بھی تھا کہ اگر نجی بینک کا وکیل دلائل نہیں دے گا تو یکطرفہ کیس کی کارروائی آگے بڑھائیں گے۔
عدالت نے کہا کہ نجی بینک کے وکیل کی طرف سے ایک بار پھر التوا کی تحریری درخواست آئی ہے، نجی بنک کو پہلے 50 ہزار کے ساتھ ایک لاکھ روپے مزید جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، نجی بنک دو ہفتے میں درخواست گزاروں کو ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانے کی رقم ادا کرے۔
حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ نجی بینک کا چیف لیگل آفیسر آئندہ سماعت پر دلائل دے، اگر نجی بنک کا وکیل دلائل نہیں دے گا تو 27 جون 2024 کے آرڈر کے مطابق یکطرفہ کارروائی آگے بڑھائیں گے، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔