ہم نے زمیندار پر بوجھ نہیں ڈالا، کوئی ٹیکس نہیں لگنے دیا، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ہم نے زمیندار پر بوجھ نہیں ڈالا، کوئی ٹیکس نہیں لگنے دیا۔
قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں عطا تارڑ نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں کا پاکستان کے معاشی ٹیک آف میں کردار یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام صوبوں کے بغیر ممکن نہیں، معیشت ٹیک آف کی پوزیشن میں ہے اس میں اپوزیشن بھی اپنا حصہ ڈالے۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے مسلم ممالک سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف جس طرح ہم یکجا ہوئے اسی طرح معیشت پر بھی ہمیں یک زبان اور یکجا ہونا ہے۔
اُنہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کی اور کہا کہ ان لوگوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ترسیلات زر بھیجنے سے منع کیا، انہوں نے جتنا کہا، پاکستانیوں نے اتنی ہی زیادہ ترسیلات زر بھیجیں۔
اسرائیل اور ایران کشیدگی پر عطا تارڑ نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، مشکل وقت میں ایران کے بہن بھائیوں سے بھرپور یک جہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے حق کا دفاع کیا، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے فلسطینیوں کی نسل کشی اور ایران پر حملے کیخلاف دنیا کے ہر فورم پر آواز اٹھائی۔
اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور دفتر خارجہ کی جانب سے مسلسل اسرائیل کے خلاف بیان جاری کیے جارہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔