data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران اور اسرائیل نے اتوار کی صبح تک ایک دوسرے پر براہِ راست حملے جاری رکھے، یہ جھڑپیں خطے میں برسوں سے جاری پراکسی جنگوں سے ہٹ کر ایک کھلی محاذ آرائی کی علامت بن گئی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس  کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے جب کہ درجنوں زخمی ہیں، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ زیادہ تر حملوں کو روک لیا گیا، کچھ میزائل شہری آبادی پر گرے، جن سے جانی نقصان ہوا۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا اسرائیلی جارحیت میں شریک ہے اور حملوں کی پشت پناہی کر رہا ہے،جب تک امریکا اسرائیل کو روکنے میں ناکام رہے گا، اسے بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھا جائے گا۔

واضح رہےکہ   امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ گزشتہ رات ایران پر ہونے والے حملوں میں امریکا کا کوئی کردار نہیں تھا، اسی طرح امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اسرائیلی حملوں میں امریکی شمولیت کی سختی سے تردید کی ہے۔

یاد رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں سے خفیہ اور نیم علانیہ تنازع جاری ہے، یہ حالیہ حملے براہ راست اور کھلی دشمنی کی علامت بن چکے ہیں، توانائی تنصیبات، جوہری مراکز اور شہری علاقوں کو نشانہ بنانا نہ صرف جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے بلکہ یہ پورے خطے کو ایک وسیع پیمانے کی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟