چین کی ایران کی خودمختاری پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
چین کی ایران کی خودمختاری پر اسرائیلی حملوں کی مذمت WhatsAppFacebookTwitter 0 15 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ:چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔اتوار کے روزعباس عراقچی نے خطے کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ اسرائیل نے حال ہی میں ایران پر شدید حملے کیے، جس میں ایرانی فوجی اہلکاروں اور شہریوں کو جانی نقصان پہنچا، خاص طور پر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی فوجی کارروائی انتہائی خطرناک ہے اور پورے خطے کو مکمل جنگ میں دھکیل سکتی ہے۔
امید ہے کہ بین الاقوامی برادری اسرائیل سے فوجی کارروائی روکنے کا متفقہ مطالبہ کرے گی۔انہوں نے ایرانی موقف کی مستقل تائید اور حمایت پر چین کا شکریہ ادا کیا اور اعتماد ظاہر کیا کہ چین خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے میں مزید اہم کردار ادا کرے گا۔وانگ ای نے کہا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد، چین نے فوراً اپنا موقف واضح کیا ہے۔ چین اسرائیل کی جانب سے ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی واضح مذمت کرتا ہے۔ چین ایران کے اعلیٰ عسکری اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے والے وحشیانہ حملوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور ایران کی اپنی خودمختاری، قانونی حقوق اور عوامی سلامتی کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔
چین ان ممالک سے اپیل کرتا ہے جو اسرائیل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں وہ امن کی بحالی کے لیے موثر اقدامات کریں۔اسی روز ، وانگ ای نے اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون ساعر سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ موجودہ صورت حال کے بارے میں اسرائیلی موقف اور نقطہ نظر جاننے کے بعد، وانگ ای نے کہا کہ چین ہمیشہ سے یہ موقف رکھتا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی تنازع کا حل بات چیت اور مشاورت کے ذریعے کیا جانا چاہیے، اور طاقت یا پابندیوں کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔
اس تناظر میں، چین اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر فوجی حملے کی واضح مخالفت کرتا ہے، خاص طور پر جب بین الاقوامی برادری اب بھی ایران کے جوہری مسئلے کا سیاسی حل تلاش کر رہی ہو، یہ اقدام ناقابل قبول ہے۔اس وقت فوری طور پر ضروری اقدامات لازم ہیں تاکہ تصادم میں اضافے سے بچا جا سکے، خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے، اور مسئلے کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کی طرف واپس آیا جا سکے، یہ بین الاقوامی برادری کا عمومی اتفاق رائے بھی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچینی خصوصیات کے حامل سوشلزم کا ایک اہم سیاسی ثمر ہے، چینی صدر ایران میں موساد کا تخریبی منصوبہ ناکام، دو جاسوس رنگے ہاتھوں گرفتار بھارت: زائرین کو لیجانے والا ہیلی کاپٹرگرکر تباہ، پائلٹ سمیت 7 افراد ہلاک را اور موساد کا خفیہ تعاون، دفاعی اتحاد خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی اسرائیل کے حق میں ریلی اسرائیلی حملے امریکی مدد کے بغیر ناممکن، پرامن جوہری پروگرام ہمارا حق ہے: ایران انتہائی افسوسناک اور مشکل صبح ہے، ہم مل کر سوگ منائیں گے، اسرائیلی صدرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایران کی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔