ایران کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ غدار بھرے پڑے ہیں، ایران میں برسوں سے غداروں کا جو اثر ونفوذ دکھائی دیتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسرائیل کو حماس کی قیادت مٹانے میں اصل مدد ایران سے غداروں نے پہنچائی، اسی طرح لبنان میں اسرائیل نے صفایا کیا۔ خود ایران میں کامیاب کارروائیاں کیں۔ اگر ایرانی صدر، پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ اور حماس کے اسماعیل ہانیہ کے واقعات کے بعد ایران ’’اندرونی معاونت‘‘کے سازشی سلسلے پر قابو پالیتا تو اسرائیلی حملے میں فوج کی اعلیٰ قیادت سے لے کر جوہری سائنس دانوں تک سب نشانہ نہ بنتے، صاف ظاہر ہے کہ اسرائیل کے پاس ایران کے اندر کی معلومات بہت واضح اور مکمل ہیں۔اسرائیل نے جس طرح سے چن چن کر ایرانی جرنیلوں اور سائنس دانوں کا قتل عام کیا اسے ایک المیہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے ، بہرحال خوش کن خبر یہ ہے کہ ناجائز صہیونی ریاست کی جانب سے ایران پر شروع کئے گئے وسیع حملے کے 18گھنٹے بعد، ایران نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جن میں درجنوں بلکہ شائد سینکڑوں بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ یہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر اب تک کا سب سے طاقتور حملہ شمار کیا جا رہا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیل میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں ’’غاصب صہیونی نظام کے فوجی مراکز اور فضائی اڈے‘‘شامل ہیں۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ’’اسرائیل میں کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی،ہمارا انتقام دردناک ہوگا۔ صہیونی دشمن ہمارے قائدین،سائنسدانوں اور عوام کو قتل کرنے کی بھاری قیمت ادا کرے گا۔‘‘ دوسری جانب، اسرائیل نے ایرانی حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات کو خفیہ رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان مقامات یا ویڈیوز کو شیئر نہ کریں جہاں ایرانی میزائل گرے ہیں۔فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’’دشمن ان ویڈیوز کو دیکھ کر اپنی حملہ آور صلاحیتوں کو بہتر بنا رہا ہے۔‘‘ ایران نے اس حملے کو ’’آپریشن الوعد الصادق 3‘‘ کا نام دیا ہے۔ اس سے قبل ایران نے دو مزید حملوں کو بھی تقریباً اسی نام سے پکارا تھا پہلا حملہ’’الوعد الصادق 1‘‘ اپریل 2024ء میں، اور دوسرا ’’الوعد الصادق 2 ‘‘ اکتوبر 2024ء میں کیا گیا تھا۔اب سوال یہ ہے کہ ایرانی حملے میں کون سے اہم مقامات نشانہ بنے؟ اب تک سامنے آنے والے سب سے نمایاں نقصانات کیا ہیں؟ ایرانی حملے کے بعد انسانی جانی نقصان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے مطابق ایک ہلاکت اور 70 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار وقت گزرنے کے ساتھ تدریجی طور پر سامنے آئے۔ ایرانی میزائل حملے کے تھوڑی ہی دیر بعد، اسرائیلی نشریاتی ادارے نے تصدیق کی کہ 17 افراد ایرانی میزائلوں کے باعث زخمی ہوئے، تاہم ان کی نوعیت یعنی شدید یا معمولی ہونے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ بعد ازاں، اسرائیلی ایمرجنسی سروس ’’نجم داوود الحمرا‘‘ (Red Star of David) نے اعلان کیا کہ وسطیٰ اسرائیل میں میزائل گرنے کے نتیجے میں زخمیوں کی تعداد 21ہو گئی ہے، جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔اسی ادارے نے یہ بھی بتایا کہ تل ابیب میں ایک عمارت کے اندر کئی افراد میزائل گرنے کے بعد پھنس گئے ہیں۔بعد ازاں، اسرائیلی اخبار’’یدیعوت آحارونوت‘‘نے رپورٹ کیا کہ ایرانی میزائل حملے کے زخمیوں کی مجموعی تعداد 63 تک پہنچ چکی ہے۔تل ابیب کے پولیس چیف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملہ ایک غیر معمولی اور بڑا واقعہ تھا جس میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور امدادی ٹیمیں محصور افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس نے بتایا کہ کچھ افراد بند پناہ گاہوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
پولیس چیف کے مطابق علاقے کو مختلف اقسام کے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بعض عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو گئیں، جبکہ کئی عمارتوں کی مکمل منزلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ادھر اسرائیلی چینل 13نے رپورٹ کی کہ تل ابیب کے بڑے علاقے کو ’’تاریخی تباہی‘‘کا سامنا ہے، جہاں درجنوں عمارتیں اور گاڑیاں ایرانی میزائلوں یا ان کے روکنے کے لئے داغے گئے دفاعی میزائلوں کے ٹکڑوں کی زد میں آ کر براہ راست متاثر ہوئی ہیں۔اخبار ’’ہآرٹز‘‘کے مطابق تل ابیب میں 32 منزلہ ایک عمارت ایرانی میزائل حملے میں متاثر ہوئی اور 300 اسرائیلیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جیسا کہ اسرائیلی چینل 12نے بھی تصدیق کی ہے۔ہآرٹز نے مزید رپورٹ کیا کہ ایرانی میزائلوں نے وسطیٰ اسرائیل کے شہر رمات گان میں 9 عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جبکہ سینکڑوں عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
رمات گان کے میئر نے کہا کہ 100 افراد بے گھر ہو چکے ہیں جن کے مکانات ایرانی حملے میں تباہ ہوئے۔9علاقے میزائلوں کا نشانہ بنے، اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کے 9مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا۔ میڈیا میں نشر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں تل ابیب کے وسطیٰ علاقے سے گھنے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیئے، جبکہ ملک کے بیشتر حصوں میں سائرن بجنے لگے، جن میں یروشلم (القدس)، حیفا اور بیر السبع شامل ہیں اور مجموعی طور پر عوام میں شدید خوف و ہراس کی کیفیت پھیل گئی۔اسرائیلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان متعدد مقامات پر کارروائی کر رہی ہے جہاں میزائل یا ان کے ٹکڑے گرے ہیں۔دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پناہ گاہوں میں رہیں اور جب تک اعلان نہ کیا جائے باہر نہ نکلیں۔اسرائیلی اقدامات،جوں جوں ایرانی میزائل اور ڈرونز اسرائیل کے قریب پہنچنے لگے، اسرائیل نے تمام فضائی دفاعی نظام فوراً فعال کر دیئے۔ ان میں آئرن ڈوم (قریبی فاصلے کے میزائل حملوں کے لیے) اور دیگر نظام شامل تھے جو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لئے استعمال کئے گئے۔ تل ابیب، یروشلم اور دیگر اسرائیلی علاقوں میں میزائل حملے کے سائرن بجا دیئے گئے اور شہریوں کو فورا ًپناہ گاہوں میں جانے کی ہدایت دی گئی۔
(جاری ہے)
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایرانی میزائل نشانہ بنایا ایرانی حملے میزائل حملے اسرائیل کے اسرائیل نے کہ ایرانی حملے میں کے مطابق تصدیق کی کی ہے کہ تل ابیب حملے کے
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔