Jasarat News:
2026-06-03@06:41:27 GMT

سعودی ولی عہد اور ایرانی سدر کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250616-01-17
ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک ) سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سعودی ولی عہد نے صدر پزشکیان، ایرانی عوام اور اسرائیلی حملوں میں جان سے جانے والوں کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے ان اسرائیلی حملوں کی مذمت اور مخالفت کا اعادہ بھی کیا، جن سے ایران کی خودمختاری اور سلامتی متاثر ہوتی ہے اور جو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق ٹیلی فونک گفتگو میں سعودی ولی عہد نے ایرانی صدرسے تنازعات کے حل کے لیے طاقت کااستعمال نہ کرنے پر زور دیا۔ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب ایران کی خودمختاری اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی مذمت کرتا ہے، اسرائیلی حکومت ایران سے تنازع بڑھانا چاہتی ہے تاکہ امریکا جنگ میں شامل ہو۔انہوں نے کہا کہ آج پوری اسلامی دنیا ایران کی حمایت میں متحد ہے، ہمیں اعتماد ہے کہ ایران دانش مندانہ اقدام کرے گا۔شہزاہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ان حملوں نے بحران کے حل کے لیے جاری مکالمے کو متاثر کیا اور کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے۔انہوں نے اختلافات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مکالمہ بنیادی اصول ہونا چاہیے۔ اس موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایران اور ایرانی عوام کے لیے ولی عہد کے خلوص بھرے جذبات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اسرائیلی جارحیت کی مخالفت اور مذمت پر سعودی عرب کے مؤقف کو سراہا۔انہوں نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کا بھی شکریہ ادا کیا کہ ایرانی زائرین کی ضروریات پوری کرنے اور ان کی بحفاظت وطن واپسی تک سہولتیں فراہم کیں۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاکہ امن کاہدف حاصل کرنے کے قریب پہنچنے پر اسرائیل اسے ناکام بناتا رہا، سعودی عرب اور ایران مل کر خطے کو پر امن بنائیں گے۔اسرائیل کی جانب سے 13 جون کو ایران کی متعدد فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف میجر جنرل محمد باقری، پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی کے علاوہ کئی جوہری سائنس دانوں کی موت کے بعد تہران کے جوابی حملے جاری ہیں۔ایران نے اسرائیلی حملوں کا ’سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا تھا اور اسی سلسلے میں اس نے ’آپریشن وعدہ صادق سوم‘ کے نام سے کی گئی بھرپور جوابی کارروائی میں اسرائیل پر مختلف وقفوں سے سینکڑوں میزائل داغے ہیں۔اتوار کی صبح دونوں جانب سے ایک دوسرے پر میزائلوں کے حملے کیے گئے، جس سے اسرائیل میں کم از کم تین اموات اور 130 افراد کا زخمی ہونا رپورٹ ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے ایران کی ولی عہد کے لیے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت