Express News:
2026-07-24@04:08:08 GMT

ایران اسرائیل جنگ

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

گزشتہ سوا مہینے میں میری تین پیشن گوئیاں مسلسل پوری ہوئی ہیں ۔ پہلی 6مئی کو انڈین حملہ۔ دوسری پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کی تاریخ ۔تیسری حال ہی میں ایران پر اسرائیل کے حملے میں کہا گیا تھا کہ دنیا ایک ایسے 7سالہ دور میں داخل ہو رہی ہے جو 2032تک جاری رہے گا۔

جب یہ مکمل ہو گا تو ایسی تبدیلیاں آچکی ہونگی کہ دنیا پہچانی ہی نہیں جائے گی۔ اگرچہ اس فیز کا آغاز 7 جولائی سے ہو جائے گا لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کے اثرات جون سے ہی شروع ہو جائیں ۔ اور ایسا ہی ہوا کہ 13جون کو صبح 6بجے اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا ۔ پیشگوئی کے الفاظ کے مطابق اس طرح سے سنسنی دھماکا خیز خبر کا آغاز ہو گیا ۔

اس سے بھی پہلے کے کالم میں لکھ چکا تھا کہ ایران امریکا جوہری ڈیل ہو یا نہ ہو پورے مشرق وسطی کے خطے میں برصغیر تک ایسی بڑی تبدیلیاں آئیں گی جو اس پورے علاقے کا ناک نقشہ تبدیل کردیں گی ۔خاص طور پر سیاسی ، معاشی اور عسکری طور پر ۔اس تمام منصوبے پر عملدر آمد کا آغاز 2006 میں اسرائیل کے لبنان پر حملے سے ہوا جس کو امریکی بلیک وزیر خارجہ کنڈو لیزا رائس نے ری برتھ آف مڈل ایسٹ سے تعبیر کیا۔

اگر چہ کہ یہ حملہ ناکام ہوا ۔ لیکن اس پر کام مسلسل جاری رہا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل کو عسکری اور خاص طور پر ٹیکنالوجیکل طور پر جدید سے جدید تر بنانے کا کام جاری رکھا ۔ 18سال تک یہ کام جاری رہا۔ یہاں تک کہ اسی ٹیکنالوجیکل برتری سے ایرانی اتحادیوں ، حماس، حزب اﷲ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ اب اسرائیل کے لیے میدان صاف تھا ۔ 2006 میں بھی یہی منصوبہ تھا کہ اسرائیل ، لبنان کو فتح کرکے شام تک پہنچ جائے اور وہاں سے سیدھا ایران پہنچ کر رجیم چینج منصوبہ مکمل کرے ۔ جیسا کہ یوکرائن میں امریکی CIA رجیم چینج سازش کرکے کٹھ پتلی یوکرائنی کامیڈین صدر کو لائی اور جسے سامراجی میڈیا نے جمہوریت کا محافظ قرار دیا ۔

بقول ہنگری کے وزیر اعظم کے اس کی وجہ یورپ اور امریکا کو 500سالہ سامراجی تسلط کا خاتمہ نظر آرہا تھا جس نے پوری دنیا کو اپنا غلام بنایا ہوا ہے ۔ کیونکہ نئی ابھرتی ہوئی قوتیں روس اور چین ہیں ۔سابقہ امریکی صدر بائیڈن بلا وجہ راتوں رات افغانستان سے باہر نہیں نکلے جب انھیں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبر دی کہ افغانستان میں 20سالہ امریکی جنگ کا فائدہ اٹھا کر روس اور چین عسکری اور معاشی طور پر ایک بڑی طاقت بن گئے ہیں۔یہ امریکی سامراج کے لیے ایک ہولناک خبر تھی۔ رجیم چینج منصوبوں کا امریکا بہت بڑا کھلاڑی ہے ۔

یہ اس کا محبوب مشغلہ ہے لاکھوں، کروڑوں انسانوں کو قتل کرنا اس کے لیے ایک کھیل سے زیادہ نہیں ۔ حال ہی میں بقول ریٹائر ہونے والے ایک امریکی جنرل کے، کہ امریکا گزشتہ صدی میں ایک کروڑ سے زائد ریڈ انڈین کو بیدردی سے قتل کرچکا ہے ۔ اس ٹیکنالوجیکل جنگ میں امریکا اور اس کے اتحادی پوری قوت سے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ایک طرف امریکا دوسری طرف اکیلا ایران جو پچھلے 45برسوں سے مسلسل اس سامراجی گٹھ جوڑ کا مقابلہ کر رہا ہے ۔ ایران کے نہ جھکنے پر سامراجی میڈیا اور اس کے کارندے جو پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ایران کو ہی دہشت گرد قرار دے رہے ہیں ۔ مکر، فریب ، جھوٹ ، عیاری ، مکاری ، دھوکا ، ظلم امریکی سامراج کی سرشت میں شامل ہے ۔

اسرائیل کے ایران پر حالیہ حملے کو ہی دیکھ لیں ٹرمپ مسلسل کہتے رہے کہ میں نے اسرائیل کو کہا ہے کہ خبردار ایران پر حملہ نہ کرنا بس ہماری ڈیل ہونے والی ہے جب کہ اندر خانے نیتن یاہو کو سپورٹ کرتے رہے ، ایران پر حملے کے لیے ۔ ایک امریکی صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر حملے کے لیے اسرائیل کو امریکا کی پوری حمایت حاصل ہے بلکہ اس معاملے میں امریکا گردن تک دھنسا ہوا ہے ۔

سابقہ امریکی صدر جوبائیڈن ہوں یا موجودہ یہ دونوں فلسطینیوں کو اس طرح سے مار رہے ہیں جیسے وہ کیڑے مکوڑے ہوں اور دنیا بے بس ۔ ان کے سُرخ سفید چہرے دیکھیں ، ان کے چمکتے دمکتے لباس اور اس پر جمہوریت اور انسانیت کے بھاشن ۔ امریکی سنیٹر برنی سینڈر نے کہا کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ غیر قانونی ہے ۔ یہ اسرائیل کی امریکا کو اپنی جنگ میں گھسیٹنے کی سازش ہے۔ اس سے دنیا بھر میں امریکا کی ساکھ متاثر ہو گئی ہے ۔

اسرائیل ایران جنگ کے حوالے سے اہم تاریخیں 16جون، 18جون اور خاص طور پر 22-21-20 جون ہیں ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسرائیل کے اور اس کے لیے

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران