data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کوئٹہ (آن لائن) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں طویل ہولناک تباہی پھیلانے اور ہمسایہ ممالک کو تہہ تیغ کرنے کے بعد امریکی مدد سے اسرائیل نے خطے کے طاقتور ملک ایران کی جانب رخ کر لیا ہے خطے کے تمام مسلمان ممالک فروعی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں اور ان کے پاس اسرائیل کی جارحیت سے نمٹنے کا کوئی لائحہ عمل نہیں فلسطین، لبنان، شام کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسرائیل ایران پر حملہ آور ہو چکا ہے مشرق وسطیٰ کے طاقتور ممالک اسرائیل کے سامنے کھڑے ہونے کی بجائے اسکے ممد و معاون بنے ہوئے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ مسلم ممالک کے اختلافات اور نفاق کی وجہ سے اسرائیل ایک ایک کر کے انہیں نشانہ بناتا جا رہا ہے پاکستان نے بجا طور پر ایران کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر کے خطے کے دیگر مسلم ممالک کو بھی ایران کا ساتھ دینے کا راستہ دکھایا ہے اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان ممالک اسرائیل کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں اور نشانہ بننے والے خطے کے ہر ملک کا ساتھ دیں مسلم حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے مسلم ممالک کی بقا کی واحد ضمانت باہمی اتفاق و اتحاد اور اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں ہے پاکستان بھارت کو بد ترین شکست دے کر ایک مسلمہ حقیقت بن کر ابھرا ہے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ پاکستان نے جرآت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کی حمایت کا اعلان کیا ہے پاکستان نے کھلے الفاظ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کرکے مسلم ممالک کو اسرائیل کی مخالفت کرنے کی جرات عطا کی ہے مسلم ممالک کے حکمرانوں کے بزدلانہ طرز عمل کی وجہ سے اسرائیل خطے کا منہ زور بدمعاش بن چکا ہے بھارت کو شکست دینے کے بعد پاکستان کے عالمی وقار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان ایک طاقتور عسکری قوت بن کر ابھرا ہے دنیا انکی قائدانہ صلاحیتوں کو تسلیم کرتی ہے حکومت اور عسکری قیادت ملکر مسلم دنیا کو لیڈ کرکے اس میں نئی روح پھونک سکتے ہیں اس لئے پاکستان مسلم ممالک کو متحد کرنے کا بیڑا اٹھائے اور فرنٹ سے لیڈ کرے تاکہ اسرائیل کی بربریت اور بدمعاشی کو بزور بازو روکا جا سکے.

اپنی باوقار بقا کی خاطر مسلمان ممالک کو یکجا ہو کر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مسلم ممالک کو خطے کے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد