امریکی صدر ٹرمپ کی اسرائیل کو پھر تھپکی، ایران پر سخت تنقید
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
امریکی صدر ٹرمپ کی اسرائیل کو پھر تھپکی، ایران پر سخت تنقید WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (سب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جی سیون اجلاس کے موقع پر اسرائیل کو پھر تھپکی دے ڈالی اور ایران پر60 دن ضائع کرنے کا الزام لگا دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ایران نے ہم سے ڈیل نہیں کی۔ اسرائیل بہت اچھا کام کررہا ہے۔ ایران یہ جنگ نہیں جیت رہا۔ ایران کو چاہئے کہ ڈیل کرے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی-7 اجلاس کے دوران اسرائیل کو بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران نے مذاکرات کے لیے 60 دن ضائع کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ہمارے ساتھ کوئی موثر معاہدہ نہیں کیا اور اسرائیل اس تنازع میں موثر کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران یہ جنگ جیتنے میں ناکام رہا ہے اور اسے مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے، ورنہ صورت حال مزید بگڑ جائے گی۔ جب صحافیوں نے امریکہ کی ممکنہ فوجی مداخلت کے بارے میں پوچھا تو صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ اس بارے میں فی الحال کچھ کہنا مناسب نہیں ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیف الیکشن کمشنر اور 2ممبران کی تعیناتی، پاکستان تحریک انصاف نے نام فائنل کرلیے چیف الیکشن کمشنر اور 2ممبران کی تعیناتی، پاکستان تحریک انصاف نے نام فائنل کرلیے ہم ایران کے ساتھ کھڑے تھے اور کھڑے رہیں گے، نواز شریف سینیٹ اجلاس میں اپوزیشن نے بجٹ کو امیر پرور اور غریب کش قرار دیدیا اسرائیل کا ایک بار پھر تہران پر حملہ، سرکاری ٹی وی چینل کی عمارت کو نشانہ بنایا ایرانی پارلیمنٹ پاکستان سے اظہار تشکر کے نعروں سے گونج اٹھی ایران پر اسرائیلی حملے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، شہباز شریفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی صدر اسرائیل کو ایران پر
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔