Jasarat News:
2026-06-03@06:16:15 GMT

ایران پر اسرائیلی حملہ: عالمی امن کیلیے خطرہ!

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا جوابی ردعمل ہنوز جاری ہے اور نہیں معلوم کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے۔ 13 جون کی صبح اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے اور اس کا جوازیہ پیش کیا کہ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ بن یامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایران چند ماہ یا ایک سال کے اندر جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے، جس کی روک تھام کے لیے فوری کارروائی ضروری تھی۔ حملوں کا بنیادی ہدف ایران کی جوہری تنصیبات، خاص طور پر نطنز میں یورینیم افزودگی کی سہولت اور خنداب و خرم آباد کی جوہری سائٹس تھیں۔ اسرائیل کا یہ بھی الزام ہے کہ ایران حماس، حزب اللہ، اور یمنی حوثیوں جیسے عسکریت پسند گروہوں کی مالی اور عسکری مدد کرتا ہے، جو اسرائیل کے خلاف حملوں میں ملوث ہیں۔ اس حملے میں اسرائیل نے ایرانی فوجی قیادت کو نشانہ بنایا، جن میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی اور ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل محمد باقری شامل تھے۔ نطنز میں یورینیم افزودگی کی سہولت، جو ایران کی سب سے اہم جوہری تنصیب ہے، کو تباہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ اصفہان کی یورینیم کنورژن سہولت اور دیگر جوہری تنصیبات بھی نشانہ بنیں، تہران اور دیگر علاقوں میں فوجی اڈوں اور ایرانی عسکری قیادت کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے کئی اعلیٰ فوجی افسران شہید ہوئے۔ اسرائیل نے ایران کے اندر سے ڈرونز اور میزائل استعمال کر کے ایرانی فضائی دفاع کو ناکارہ بنایا، جس سے حملوں کی کامیابی ممکن ہوئی۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں سخت ردعمل کا اعلان کیا۔ انہوں نے قوم سے خطاب میں کہا کہ اسرائیل نے ’’گھناونا جرم‘‘ کیا اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنا کر اپنی ’’بدنما فطرت‘‘ کا اظہار کیا۔ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اسرائیل کو ’’سخت سزا‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایرانی مسلح افواج ’’کاری ضربیں‘‘ لگائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے اپنے لیے ’’تلخ اور تکلیف دہ قسمت‘‘ کا انتخاب کیا ہے، اور ایران اسے ’’بے اثر اور بے بس‘‘ کر دے گا۔ ان کے بیانات کے ساتھ ایران نے ’’وعدہ صادق ‘‘ کے نام سے جوابی کارروائی شروع کی، جس میں سیکڑوں بیلسٹک میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں متعدد صہیونی ہلاک اور تین سو سے زاید زخمی ہوئے، ایران نے اسرائیلی جوہری تنصیبات ڈیمونا کو بھی نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایران نے برطانوی بحری جہاز کو بھی روک لیا ہے، جب کہ ایران آبنائے ہرمز کی بندش پر بھی غور کر رہا ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ تمام مسلم ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ نصف صدی سے آگ میں جل رہا ہے، مغربی طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لیے اسرائیل نامی جو خنجر عالم ِ اسلام کے سینے میں پیوست کیا ہے اس سے آج بھی خون رس رہا ہے، امریکا اور مغربی طاقتیں اسرائیل کو خطے کی سب سے مضبوط عسکری قوت بنانے کی خواہش مند ہیں، انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ایران اس راہ کی سب سے بڑی دیوار ہے، اس لیے کوشش کی جاتی رہی ہے کہ کسی طرح ایران کو کمزور کیا جائے تاکہ اسرائیل کو خطے میں مکمل طور پر کھل کھیلنے کا موقع ملے۔ 13 جون کو ایران پر اسرائیل کا حملہ پہلا حملہ نہیں اسرائیل ایران کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح ایران کو غیر مسلح کردیا جائے تاکہ وہ گریٹر اسرائیل کے خاکے پر رنگ بھر سکے، اسرائیل اپنے قیام سے لے کر اب تک ایران کے خلاف براہ راست بھی اور بالواسطہ حملے بھی کیے ہیں، جس میں ہدف ایران کا جوہری پروگرام، فوجی تنصیبات اور سائنسدان رہے ہیں، خفیہ یا بالواسطہ نوعیت کے ان حملوں میں ایران کے متعدد جوہری سائنسدانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے اسرائیلی حملے کے جواب میں جس ردعمل کا اظہار کیا ہے، وہ صہیونی قیادت کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ ایران پر اسرائیلی جارحیت کے ضمن میں پاکستانی دفترخارجہ کا یہ کہنا بجا ہے کہ ایران کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یوں تو اسرائیل نے حملے کا جواز ایران کے جوہری پروگرام کو قراردیا ہے مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ جوہری پروگرام اور تنصیبات تو محض ایک بہانہ ہے صہیونی قیادت اور اس کے مغربی سرپرستوں کا اصل ہدف رجیم کی تبدیلی کا تھا، اپنے اصل عزائم کا اظہار خود نیتن یاہو بھی کرچکے ہیں مگر محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل اور مغربی طاقتیں اپنے ان عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ جو پہلے ہی آگ میں جل رہا ہے، ایران پر اسرائیلی حملے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، یہ کشیدگی خطے کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی، اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری نے اسرائیل کے جنگی جنون کو قابو میں کرنے کے لیے ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو جنگ میں مزید شدت آنے کے امکانات ہیں اور اگر آگ کی شدت پھیلے تو صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں پوری دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران پر اسرائیل جوہری پروگرام نشانہ بنایا کہ اسرائیل اسرائیل کے اسرائیل نے نے اسرائیل اور ایران کہ ایران ایران نے ایران کو ایران کے کے خلاف کیا ہے رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی

ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔

ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام