ایک ساتھ پرواز کرنیوالے امریکی فضائیہ کے 30 طیاروں کی یورپ کی مختلف ائیر بیسز پر لینڈنگ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فلائٹ ریڈار نے امریکی فضائیہ کے تقریباً 30 طیاروں کے ایک غول کی تصویر جاری کی ہے جو مختلف یورپی ایئر بیسز پر پہنچے ہیں۔
فلائٹ ریڈار کے مطابق، یہ طیارے، جن میں زیادہ تر KC-46A Pegasus اور KC-135 Stratotankers شامل تھے، رات گئے امریکا سے روانہ ہوئے اور یورپ پہنچنے کے بعد مختلف مقامات پر الگ الگ ہو گئے۔
اگرچہ ان طیاروں کی آخری منزل ابھی تک واضح نہیں تھی، فلائٹ ریڈار کی ٹریکنگ کے مطابق 2 طیارے شمالی اٹلی میں ایویانو ایئر فورس کے اڈے پر لینڈ کرتے ہوئے دیکھے گئے، جبکہ 2 طیارے اسپین کے قصبے ڈی لا فرونٹیرا کے مورون ایئر بیس پر اُترے۔
مزید برآں، طیاروں کے ایک جوڑے نے جرمنی کے قصبے کیزر سلاٹرن کی سمت اختیار کی، ایک طیارہ یونان کے چینہ ایئر بیس پر اُترنے میں کامیاب ہوا، جبکہ ایک نے جرمنی کے رامسٹین ایئر بیس پر لینڈنگ کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔