data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی کابینہ نے وفاقی سرکاری ملازمین کیلیے نئی اعزازیہ پالیسی کی منظوری دے دی، پالیسی کے تحت بجٹ اعزازیہ، آرڈینری اعزازیہ اورکارکردگی اعزازیہ دیاجائے گا۔ پالیسی کے تحت بجٹ اعزازیہ وفاقی حکومت کی بجٹ سازی کی مشق میں شامل ملازمین کوملے گا، بجٹ اعزازیہ کیلیے وزارت خزانہ، ایف بی آر، وزارت منصوبہ بندی، قومی اسمبلی، سینیٹ سیکرٹریٹ اور وزیرِاعظم آفس کے ملازمین حقدارہوں گے، ہرمالی سال کیلیے اعزازیہ کی تعداد اور کن وزارتوں یا دفاتر کو دیا جائے گا، یہ فیصلہ وزیرخزانہ کریں گے۔ پالیسی کے تحت پرنسپل اکائونٹنگ افسر کوآرڈینری اعزازیہ دینے کا اختیار حاصل ہو گا، آرڈینری اعزازیہ گریڈ ایک تا 22 کے تمام ملازمین کو ایک بنیادی تنخواہ کے برابر دیا جاسکے گا۔ کارکردگی اعزازیہ پر مالی سال کے دوران قابل قدر کارکردگی کی بنیاد پر دیاجائے گا، کارکردگی اعزازیہ مالی سال میں ایک بنیادی ماہانہ تنخواہ کے برابر دیا جاسکے گا، لیکن یہ تعداد کل ملازمین کے 25فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔ مذکورہ بالا 25 فیصد کے علاوہ دیگر اہل ملازمین کو کارکردگی اعزازیہ دیاجاسکے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کارکردگی اعزازیہ

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی