وفاقی کابینہ نے افغانستان کے ساتھ تجارتی ٹیرف میں رعایتوں کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی کابینہ نے افغانستان کے ساتھ تجارتی ٹیرف میں رعایتوں کی منظوری دےدی۔
’’جیو نیوز ‘‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی ٹیرف میں رعایتوں کی وزارت تجارت کے سمری کی منظوری وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے لی گئی۔ ارلی ہارویسٹ پروگرام کے تحت وفاقی کابینہ نے ٹیرف میں رعایتوں کی منظوری دی اور پروگرام کے تحت پاک، افغان دوطرفہ تجارت میں اضافہ کیا جائے گا۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہےکہ دونوں ممالک4، 4 زرعی مصنوعات پرکسٹمز ڈیوٹی ختم یاکم کریں گے تاہم رعایت کے باوجود دونوں ممالک کی جانب سے 22 سے27 فیصد ٹیکس لاگو رہیں گے جب کہ ٹیکس رعایتوں کا اطلاق یکم اگست 2025 سے 31 جولائی2026 تک ہوگا۔ پروگرام کے تحت مخصوص زرعی مصنوعات پرترجیحی ٹیرف رعایتیں ملیں گی، افغانستان کی 4 مصنوعات پر پاکستان 5 سے 26 فیصدٹیکس رعایت دے گا۔
خیبرپختونخوا؛سینیٹ کا ضمنی الیکشن، مشال یوسفزئی 86ووٹ لے کر سینیٹر منتخب
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے ٹماٹر پر پاکستان 5 فیصد ڈیوٹی ختم کرے گا، اس کمی کے بعد ٹماٹر پر ٹیکس27سےکم ہوکر 22 فیصد رہ جائےگا، اس کے علاوہ انگور، انار اور سیب پرپاکستان26 فیصد ڈیوٹی کم کرےگا جس کے بعد ان 3 مصنوعات پرٹیکسز 53 سےکم ہوکر27 فیصد رہ جائیں گے۔ افغانستان 4 پاکستانی مصنوعات پر 20 سے 35 فیصد ٹیکس رعایت دےگا جن میں پاکستانی آلو پر 35 فیصد اور کیلے پر 30 فیصدکسٹمز ڈیوٹی کم کی جائیگی جس کے بعد افغانستان کو آلو کی برآمدات پر ٹیکسز 57 سےکم ہوکر 22 فیصد رہ جائیں گے۔
9مئی مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما ؤں کو سزائیں، بیرسٹر گوہر کا ردعمل بھی سامنے آگیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: افغانستان کے وفاقی کابینہ مصنوعات پر کی منظوری
پڑھیں:
طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان حکام نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن کے دفتر پر چھاپہ مار کر تنظیم کے 6 ملازمین کو حراست میں لے لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، کارروائی کے دوران طالبان اہلکاروں نے تنظیم کے کمپیوٹرز، دستاویزات اور دیگر دفتری سامان بھی قبضے میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: طالبان حکومت کا ایک اور متنازع فیصلہ، خواتین کو صحت کی تعلیم سے روکنے کا حکم
تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ گرفتار کیے گئے ملازمین کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور ان کی موجودہ حالت کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والوں میں 2 افراد تنظیم کی سربراہ زرقا یفتلی کے قریبی رشتہ دار ہیں، جو اس وقت افغانستان سے باہر مقیم ہیں۔
Sources in Kabul told Afghanistan International on Wednesday that Taliban agents raided the office of the Women and Children Legal Research Foundation (WCLRF) earlier this week and detained six staff members.https://t.co/ly2WtJb202 pic.twitter.com/fQ8qbUdHiN
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 23, 2026
زرقا یفتلی خواتین کے حقوق کی معروف کارکن ہیں اور گزشتہ سال انہیں متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 زاید ایوارڈ فار ہیومن فریٹرنٹی سے نوازا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کے اہلِ خانہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے عزیزوں کی حراست کی جگہ، قانونی حیثیت اور صحت کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کرکٹ اسٹارز سے ملاقاتوں اور لباس کے معاملے پر طالبان رہنماؤں میں اختلافات بڑھ گئے
ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن تعلیم، خواتین اور بچوں کے حقوق کی وکالت، تحقیقی سرگرمیوں اور تحقیقاتی رپورٹس کی تیاری کے شعبوں میں کام کرتی رہی ہے۔
طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں سول سوسائٹی کی متعدد تنظیموں، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں، پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
اس عرصے کے دوران کئی سماجی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ متعدد تنظیمیں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سول سوسائٹی طالبان فلاحی تنظیم کابل کمپیوٹرز متحدہ عرب امارات ویمن اینڈ چلڈرن لیگل ریسرچ فاؤنڈیشن