پاکستان اور افغانستان کے درمیان نیا زرعی تجارتی معاہدہ، بلوچستان کے زمینداروں اور پھل سبزی فروشوں کو تحفظات کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
پاکستان اور افغانستان نے دو طرفہ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے زرعی اجناس پر ترجیحی ٹیرف سے متعلق ایک اہم معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت 8 زرعی اشیا پر درآمدی محصولات میں نمایاں کمی کی جائے گی۔ یہ معاہدہ یکم اگست 2025 سے نافذ العمل ہو گا اور آئندہ اس میں توسیع اور مزید اجناس شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
طالبان حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، معاہدے پر دستخط کابل میں افغانستان کی وزارت صنعت و تجارت کے نمائندے مولوی احمد اللہ زاہد اور پاکستان کے سیکریٹری تجارت جاوید پال کے درمیان ہوئے۔
معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ان 8 اشیاء پر محصولات کی شرح 60 فیصد سے گھٹا کر 27 فیصد تک لے آئیں گے۔
یہ بھی پڑھیے پاک افغان معاہدہ طے، کن سبزی و پھلوں کی تجارت ہوگی، ٹیرف کتنا؟
افغانستان سے پاکستان کو برآمد کی جانے والی اجناس میں انگور، انار، سیب اور ٹماٹر شامل ہیں، جب کہ پاکستان سے افغانستان کو بھیجے جانے والے پھلوں میں آم، کینو، کیلا اور آلو شامل ہیں۔
اس معاہدے پر بلوچستان کے زمینداروں اور مقامی کاروباری طبقے کی جانب سے سخت اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
زیارت سے تعلق رکھنے والے زمیندار نفس احمد نے وی نیوز کو بتایا کہ اس معاہدے سے مقامی فصلوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے زمینداروں کو معاشی نقصان پہنچے گا۔ بلوچستان میں ہر سال لاکھوں ٹن سیب اور ٹماٹر پیدا ہوتے ہیں جو ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
ان کے مطابق وہ غیر ملکی درآمدات کے خلاف نہیں ہیں، تاہم ان اجناس کی درآمد پر تحفظات ہیں جن میں پاکستان پہلے ہی خود کفیل ہے۔
مقدس احمد نے کہا کہ محدود افغان پیداوار کے باوجود دیگر ممالک جیسے ایران سے درآمد شدہ سیب افغانستان کے راستے پاکستان منتقل کیے جا سکتے ہیں، جو بلوچستان کے کسانوں کے لیے تباہ کن ہو گا۔ مزید یہ کہ صوبے میں پراسیسنگ پلانٹس نہ ہونے کے باعث زمیندار پہلے ہی اپنی پیداوار کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔
دوسری جانب فروٹ اینڈ ویجی ٹیبلز ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والے شیر علی کے مطابق اس معاہدے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں وسعت آئے گی اور پھل و سبزیوں کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہو گا۔
مزید پڑھیے: پاک افغان تعلقات میں بہتری، تجارت 3 گنا بڑھانے کا ہدف
شیر علی نے کہا کہ پچھلے سال زیادہ ٹیکسوں کے باعث انگور اور انار جیسے پھل عام افراد کی پہنچ سے دور ہو گئے تھے۔ اب جب کہ ٹیکس 200 روپے فی کلو سے گھٹ کر 50 سے 55 روپے ہو جائے گا، قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
گزشتہ برسوں میں زائد محصولات کی وجہ سے پاک افغان پھل و سبزیوں کی تجارت تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ اس نئے معاہدے سے نہ صرف قیمتیں متوازن ہوں گی بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک افغان تجارتی معاہدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک افغان تجارتی معاہدہ
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن