وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 اور مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 30 جولائی 2025ء ) وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔ جس میں وفاقی کابینہ کی حج پالیسی 2026 اور مصنوعی ذہانت پالیسی 2025 کی منظوری دے دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حجاج کرام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے آئندہ برس حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن خوش آئند ہے۔
حجاج کرام کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ وزارت مذہبی امور حج پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنائے گی۔ اجلاس کو حج پالیسی 2026 کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئندہ برس پاکستان کا مجموعی ملکی حج کوٹا 70 فیصد حکومتی اور 30 فیصد نجی کوٹے کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔(جاری ہے)
گزشتہ برس نجی شعبے کی غفلت کی وجہ سے حج سے محروم رہ جانے والے افراد کا حج نجی کمپنیاں2026 میں یقینی بنائیں گی۔
نئی پالیسی کے تحت سرکاری اسکیم و نجی کمپنیوں کے تحت حج آپریشن کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے گی۔ پالیسی میں حج کے دوران حاجیوں کی سہولیات کے ساتھ ساتھ انہیں انکی رقوم کے متوازی سروسز فراہم کرنا شامل ہے۔ پالیسی میں آئندہ برس ایک ہزار نشستیں ہارڈ شپ کیسز کے تحت مختص کی گئی ہیں۔ پالیسی کے تحت کسے بھی نجی کمپنی کے لیے حاجیوں کی کم از کم تعداد 2 ہزار رکھی گئی ہے۔ نجی کمپنیوں کی حج آپریشن کے دوران کڑی نگرانی کی جائے گی۔ پالیسی کے اطلاق کے بعد نجی کمپنیوں کے تحت درخواست گزاروں کی رقوم و پراسیس کی ریئیل ٹائم مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے گی۔ حج 2026 کیلئے گزشتہ برس کی طرح معاونین کا انتخاب شفاف انداز سے ٹیسٹ کے ذریعے ہوگا۔ حجاج کیلئے موبائل سمز، ڈیجیٹل رسٹ بینڈز، بہترین رہائش و طعام اور کسی بھی ہنگامی و حادثاتی صورتحال کے نتیجے میں معاوضے کو یقینی بنایا جائے گا۔ ادائیگیوں، تربیت، شکایات و دیگر سروسز کیلئے پاک حج موبائل ایپلی کیشن کو مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی.کابینہ ارکان نے تمام متعلقہ وزارتوں و اداروں سمیت پالیسی کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے افسران و اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا. وزیرِ اعظم نے وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو وزارت مذہبی امور کے ساتھ مل کر حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ حکومت کی پاکستان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، عام آدمی کی آرٹیفیشل انٹیلی جینس ٹیکنالوجی تک رسائی، ملک میں مکمل اے آئی ایکوسسٹم کے قیام اور اس حوالے سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان افرادی قوت ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، نوجوانوں کو اے آئی کے میدان میں ضروری تعلیم و تربیت اور یکسان ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت ایف بی آر اصلاحات میں اے آئی کے ذریعے پہلے سے ہی ملکی آمدن میں اضافے اور نظام کی بہتری پر کام کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وفاقی کابینہ حج پالیسی 2026 جائے گی اے آئی کے تحت
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔