اسلام آباد ہائیکورٹ کے رولز میں تبدیلی کے معاملے پر جسٹس بابر ستار کا قائم مقام چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کو خط
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کے رولز میں تبدیلی کے معاملے پر جسٹس بابر ستار کا قائم مقام چیف جسٹس سمیت دیگر ججز کو خط WhatsAppFacebookTwitter 0 17 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) ہائیکورٹ کے رولز تبدیلی کے معاملے پر جسٹس بابر ستار نے قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سمیت دیگر ججز کوخط لکھ دیا۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر اور دیگر ججز کو کو لکھے گئے خط میں جسٹس بابر ستار نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ رولز 2025 کا گزٹ نوٹیفکیشن مجھے موصول ہوا، آئین کے آرٹیکل 208 کے تحت اتھارٹی کے پاس رولز بنانے کا اختیار ہے اور آرٹیکل 192 کے مطابق اتھارٹی سے مراد چیف جسٹس اور ہائیکورٹ کے ججز ہیں۔جسٹس باہر ستار نے کہا کہ لاہورہائیکورٹ رولز اور آرٹیکل 208 میں ذکرکردہ طریقے کیخلاف رولز میں تبدیلی ہوئی، بغیر فل کورٹ میٹنگ رولز تبدیلی خلاف قانون ہے اور فوری درستگی کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
جسٹس بابر نے کہا کہ یہ اختیار کسی اورکو نہیں دیا جا سکتا، نا کسی اورطریقے سے استعمال ہو سکتا ہے، طے شدہ اصول ہے جس قانون کے تحت صوابدیدی اختیارملا وہ قانون میں تبدیلی کے بغیرکسی دوسرے کونہیں دیے جا سکتے، لاہورہائیکورٹ رولز جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے اختیار کیے ان میں آرٹیکل 208 کا اختیارکسی اورکو نہیں دیاگیا۔ خط میں مزید کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ رولز2025 لیگل اتھارٹی کے بغیر ہیں اور رولز 2025 آرٹیکل 208 کی خلاف ورزی میں بنے ہیں، لاہور ہائیکورٹ رولز جو اسلام آباد ہائیکورٹ نے اختیارکیے ہوئے ہیں ان کے مطابق یہ خلاف قانون ہے۔ جسٹس بابر ستار نے کہا کہ غلطی کی تصحیح فوری ہونی چاہیے کیونکہ اس سے ملازمین کے حقوق بھی متاثر ہوں گے، ملازمین کے حقوق متاثر ہونے کے علاوہ بھی یہ ہائیکورٹ کے لیے شرمندگی کاباعث ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی، جلد دنیا دیکھے گی کہ کئی اہم چیزیں رونما ہونگی، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھارت سے دہشتگردی پر بات ہوگی، جلد دنیا دیکھے گی کہ کئی اہم چیزیں رونما ہونگی، فیلڈ مارشل عاصم منیر جی سیون ممالک کا اسرائیل کی حمایت کا اعلان، ایران عدم استحکام کا سبب قرار ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف کا جناح یونیورسٹی برائے خواتین کراچی کا دورہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ازبکستان کے سفیر علی شیر تختایف کی ملاقات وزیراعظم کی 2028تک ریکوڈک کو ریلوے لائن نیٹ ورک سے منسلک کرنیکی ہدایت اسرائیلی فورسز کی فائرنگ، جنوبی غزہ میں امداد کے منتظر 45فلسطینی شہید، درجنوں افراد زخمیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس بابر ستار ہائیکورٹ کے دیگر ججز کو میں تبدیلی تبدیلی کے چیف جسٹس
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔