نادرا نے کراچی میں بائیکر سروس کی تعداد بڑھا دی
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نادرا نے کراچی کے شہریوں کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے بائیکر سروس کی تعداد تین سے بڑھا کر آٹھ کر دی ہے۔
ڈی جی نادرا کراچی ریجن عامر علی خان کے مطابق، اب شہر کے تمام اضلاع کے رہائشی بائیکر سروس کے ذریعے اپنے گھروں پر شناختی کارڈ کی تجدید، ب فارم اور دیگر متعلقہ سہولیات حاصل کر سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے فروغ کے لیے کراچی میں روڈ شو کا انعقاد کیا گیا ہے، جبکہ اس سروس کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے یونیورسٹیوں، اسکولوں، شاپنگ مالز اور دیگر اداروں میں خصوصی مہم بھی شروع کی گئی ہے۔
عامر علی خان کا کہنا تھا کہ پاک آئی ڈی کے سافٹ ویئر کو مزید بہتر بنایا گیا ہے اور اس میں موجود تکنیکی مسائل کو بھی حل کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی نادرا نے مزید بتایا کہ آئندہ چند مہینوں میں پاک آئی ڈی کے حوالے سے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم شروع کرنے کا ارادہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔