ملت جعفریہ کا ایران پر اسرائیلی حملے کیخلاف کراچی میں عظیم الشان ریلی نکالنے کے اعلان
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ ملی جماعتوں و رہنماؤں نے کہا کہ آج تمام اسلامیان جہان ایران کی پشت پر کھڑے ہیں، اس حساس صورتحال میں پاکستان سمیت عرب دنیا کا مؤقف دو ٹوک ہے کہ ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران پر صہیونی اسرائیلی حملے کے خلاف کراچی کے پاک محرم ہال میں شیعہ ملی جماعتوں و رہنماؤں کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی، اس موقع پر علامہ سید ناظر عباس تقوی، علامہ صادق جعفری، حیدر عباس ثقفی، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ بدر الحسنین، علامہ علی رضا مطہری، علامہ اطہر مشہدی، علامہ ڈاکٹر عقیل موسیٰ، صابر ابو مریم، غیور عباس و دیگر موجود تھے۔ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ ناجائز صیہونی ریاست کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کھلی جارحیت ہے، جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں، ملت جعفریہ پاکستان ایران پر ہونے والے حملے کے خلاف 22 جون کو کراچی میں نمائش تا تبت سینٹر عظیم الشان ریلی نکالے گی، ایران پر ہونے والا اسرائیل کا حملہ بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ اسرائیل کا وجود خطے میں ناسور بنتا جا رہا ہے، سامراج کسی کی آزادی کو تسلیم نہیں کرتا، تمام امت مسلمہ کو اس سامراجی حملے کی کھل کر مذمت کرنی چائیے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ایران کے جوابی حملوں سے غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کا غرور خاک میں مل رہا ہے، جبکہ دوسری طرف مظلوم فلسطینی عوام پر عرصہ دراز سے کیے جانے والے سنگین مظالم کا خاتمہ نزدیک ہے۔
علامہ صادق جعفری نے کہا کہ آج تمام اسلامیان جہان ایران کی پشت پر کھڑے ہیں، اس حساس صورتحال میں پاکستان سمیت عرب دنیا کا مؤقف دو ٹوک ہے کہ ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل ایک ہی گود میں پلنے والے دو بچوں کی طرح ہیں اور عالمی صیہونی تحریک اور ہندوتوا دونوں استکبار کے مکروہ چہرے ہیں۔ حیدر عباس ثقفی نے کہا کہ پاکستان پر بھارتی جارحیت پر اسرائیل کی جانب سے بھارت کی پشت پناہی اور ایران پر اسرائیلی جارحیت پر بھارتی حمایت اور متشدد ہندؤں کی جانب سے اسرائیلی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اور اسرائیل دونوں کے مفادات اسلام مخالف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خداوند متعال کا لطف ہے کہ آج مسلمان دنیا میں وحدت و اتحاد کی ایک عظیم تصویر بنی ہوئی ہے۔ دیگر رہنماؤں نے کہا کہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ عالم اسلام ظالم صیہونیت اور ہندوتوا کے دشمن، جبکہ مظلوم ایرانی کشمیری اور فلسطینی عوام کے حامی ہیں۔ رہنماؤں نے ایران میں مرد و خواتین اور بچوں کی شہادتوں پر دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قوم سے تعزیت کی اور پسماندگان کیلئے صبر کی دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رہنماؤں نے کہا کہ کی جانب سے ایران پر
پڑھیں:
ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭