ملتان، زیارات کیلئے راستوں کی بندش کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کی احتجاجی ریلی، عوم کی بڑی تعداد شریک
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کے آرگنائزر علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اچانک زمینی راستوں کو بند کرنا اور زائرین پر پابندی لگانا کسی صورت قبول نہیں، یہ عمل حکومتی انتظامی نااہلی اور عالمی اربعین کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ حالیہ ایران، عراق اور پاکستان کے سہ ملکی اربعین اجلاس میں پاکستانی حکام کی جانب سے کیے گئے وعدے کہاں گئے؟ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر چہلم کے موقع پر زائرین کے بائی روڈ سفر کی بندش کے خلاف ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا، لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ ملتان سمیت جنوبی پنجاب بھر میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں، ملتان میں پریس کلب سے نواں شہر چوک تک ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت مجلس وحدت مسلمین جنوبی پنجاب کے آرگنائزر علامہ قاضی نادر حسین علوی اور ضلعی آرگنائزر ملتان عون رضا انجم ایڈووکیٹ نے کی۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما سلیم عباس صدیقی، عزاداری ونگ کے رہنما انجینئر سخاوت علی سیال، مولانا ہادی حسین قمی، مولانا جعفر انصاری، وائس آف کارواں سالار کے ڈویڑنل صدر سید مظفر شمسی، جنرل سیکرٹری سید آل رضا کاظمی، سید اقبال مہدی زیدی ایڈووکیٹ، زوار حسین لنگاہ، اراکین ورکنگ کمیٹی سید جواد رضا جعفری موجود تھے۔ ریلی میں بڑی تعداد میں زائرین، قافلہ سالار اور مومنین نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اچانک زمینی راستوں کو بند کرنا اور زائرین پر پابندی لگاناکسی صورت قبول نہیں، یہ عمل حکومتی انتظامی نااہلی اور عالمی اربعین کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔ حالیہ ایران، عراق اور پاکستان کے سہ ملکی اربعین اجلاس میں پاکستانی حکام کی جانب سے کیے گئے وعدے کہاں گئے؟ کیا وہ صرف کاغذی دعوے تھے؟ اگر حکومت نے سفری سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا تو اب پیچھے ہٹنے کا جواز کیا ہے؟یہ پابندی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ لاکھوں عقیدت مندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ بلو چستان خرابی حالات پر انڈیا و اسرائیل کے بیان کو تقویت دے رہیں ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ کے اپنے بیانات میں تضاد ہے ایک جانب یہ کہتے ہیں کے بلوچستان میں دہشتگرد قانون کی گرفت میں ہیں اور ایک ایس ایچ او بھی انہیں قابو کر سکتا ہے دوسری جانب ان کو زمینی راستوں پر دہشتگردی کا خطرہ نظر آنے لگا ہے۔اگر صوبے کے حالات اتنے ہی خراب ہیں تو آپریشن کیوں نہیں کیا جاتا۔
انہو ں نے کہا کہ حکومت اپنی کمزوری چھپانے کیلئے ایسے اقدامات کر رہی ہے۔زائرین کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ایسے غیر آئینی اقدامات ملک میں انتشار کا با عث بنیں گے ، حکومتی ناقص داخلی و خارجی پالیسیاں دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بن رہی ہیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ زائرین کی راہ میں کھڑی کی گئی رکاوٹیں کسی بھی صورت قابلِ قبول کریں گے زمینی راستوں سے جانے والے زائرین پر لگائی جانے والی پابندی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ رہنماں نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیں گے۔ اس موقع پر زاہد سوری، قیصر لنگاہ، یاسر لنگاہ،احسن مہدی، علی رضا حسینی، اور دیگر موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔