وزیر داخلہ زائرین کو سکیورٹی نہیں دی سکتے تو استعفیٰ دیں، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
شکارپور میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ڈومکی نے آئین پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو اپنے ملک میں آزادانہ سفر کرنیکی ضمانت دیتا ہے۔ کوئی وزیر یا ادارہ لاکھوں شہریوں کے سفر پر بیک وقت پابندی لگانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ زائرین پر پابندی قابل مذمت، اور پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق پر حملہ ہے۔ اگر وزیر داخلہ اور حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے۔ یہ بات انہوں نے شکارپور میں زائرین کے زمینی سفر پر پابندی کے خلاف نکالی جانے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔ اس سلسلے میں مجلس وحدت مسلمین ضلع شکارپور اور شیعیان حیدر کرار شکارپور کے زیر اہتمام علامہ مقصود علی ڈومکی اور ضلعی صدر اصغر علی سیٹھار کی قیادت میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں اصغریہ آرگنائزیشن، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، جعفریہ الائنس، آئی ایس او اور اصغریہ علم و عمل تحریک کے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ پاکستان بھر سے لاکھوں عاشقان اہل بیت (ع)، نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت اور شہدائے کربلا کی یاد میں برپا چہلم کے اجتماعات میں شرکت کے لئے مکمل تیاریاں کر چکے ہیں۔ ان کے ویزے لگ چکے ہیں اور گاڑیوں کی بکنگ مکمل ہو چکی ہے۔ ایسے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے بائے روڈ زائرین پر اچانک پابندی کا اعلان انتہائی افسوسناک اور عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والا عمل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواسۂ رسول (ص) کی زیارت ایک عظیم عبادت ہے، جس میں شرکت کے لئے دنیا بھر سے کروڑوں مؤمنین ہر سال کربلا پہنچتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہئے تھا کہ وہ کئی ماہ قبل زائرین کی سکیورٹی اور سہولیات کے لئے مؤثر انتظامات کرتی۔ لیکن افسوس کہ وزیر داخلہ نے سکیورٹی کو بہانہ بنا کر اچانک ایک غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلہ کیا، جو کہ پاکستان کے شہریوں کی مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق پر صریح حملہ ہے۔
علامہ ڈومکی نے آئین پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو اپنے ملک میں آزادانہ سفر کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔ کوئی وزیر یا ادارہ لاکھوں شہریوں کے سفر پر بیک وقت پابندی لگانے کا اختیار نہیں رکھتا۔ انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک دن عزاداری پر، دوسرے دن سبیل و جلوس پر، تیسرے دن پیدل مشی پر اور اب زائرین کے سفر پر پابندیاں لگا رہی ہے۔ یہ اہل تشیع کے خلاف ریاستی اداروں کا امتیای سلوک ہے اور یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ اگر وزیر داخلہ اور حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں تو انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے۔ آخر میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر زائرین پر سے تمام پابندیاں ہٹا کر ان کے محفوظ سفر کو یقینی بنائے اور ان کے مذہبی حق میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرے۔ ریلی سے مجلس وحدت مسلمین ضلع شکارپور کے ضلعی صدر اصغر علی سیٹھار اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور زائرین کے حق میں حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئین پاکستان علامہ مقصود پاکستان کے وزیر داخلہ کرتے ہوئے ڈومکی نے ریلی سے کہا کہ
پڑھیں:
دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
ایک روزہ سیریز کے دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کے لیے 232 رنز کا ہدف دے دیا۔
لاہور میں جاری میچ میں پاکستان کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی ٹیم مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 231 رنز بنا سکی۔
آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین اور کپتان جوش انگلس 51 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ میٹ رینشا 43، اولیور پیک 31، میتھیو شارٹ 15، مارنس لبوشین 5، میتھیو کوہنمن 5 اور ایلکس کیرے 0 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 جبکہ عرفات منہاس، ابرار احمد اور حارث رؤف نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔