اسرائیلی فورسز کی فائرنگ ،جنوبی غزہ میں امداد کے منتظر 50 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ(صباح نیوز)جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں امداد کے انتظار میں کھڑے کم از کم 50 بے گناہ فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ اس سانحے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیل نے منگل کی صبح جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے بھوکے اور پیاسے نہتے فلسطینیوں کا بے رحمانہ قتل عام کیا۔ التحلیہ چوک پر فاقہ زدہ فلسطینی شہری جب امدادی سامان کے انتظار میں کھڑے تھے، تو غاصب فوج نے ان پر اندھا دھند گولیاں برسادیں۔ اس کے نتیجے میں50نہتے شہری موقع پر ہی شہید ہو گئے جب کہ200 سے زائد شدید زخمی ہوگئے، جن میں 20 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔یہ ظلم و ستم کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ قابض اسرائیلی فوج کی اس مجرمانہ روش کا تسلسل ہے، جس کے تحت وہ انسانی امداد کے مراکز کو “موت کے پھندے میں بدل چکی ہے۔ یہ وہی امدادی مراکز ہیں جو امریکا کی نام نہاد انسانی ہمدردی کے سائے میں قائم کیے گئے لیکن حقیقت میں وہاں فلسطینیوں کو گولیوں سے بھونا جاتا ہے۔طبی ذرائع کے مطابق غزہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی، آپریشن تھیٹر اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ زخمیوں سے بھر چکے ہیں۔ دوا ناپید ہے، آلاتِ جراحی ختم ہو چکے ہیں اور عملہ مسلسل تھکن، بے سروسامانی اور غم میں ڈوبا ہوا ہے۔اسی صبح رفح شہر کے مغربی حصے میں بھی قابض اسرائیل نے امداد کے منتظر فلسطینیوں پر فائرنگ کی۔ یہ ایک منظم نسل کشی ہے، جسے عالمی خاموشی مزید طاقت دے رہی ہے۔ نہ کوئی مذمت، نہ کوئی روک تھام، اور نہ ہی کوئی عملی قدم۔غزہ گزشتہ کئی ماہ سے مکمل ناکہ بندی کا شکار ہے۔ 2 مارچ کو قابض اسرائیل نے تمام بارڈر بند کر دیے، خوراک، دوا اور ایندھن کی ترسیل روک دی گئی۔ اسی دن سے قابض فوج نے بھوک، پیاس اور بیماری کو اپنا ہتھیار بنا کر غزہ پر نسل کشی کی نئی لہر مسلط کر رکھی ہے۔رفح، وسطی غزہ اور دیگر علاقوں میں انسانی امداد کے مراکز کو بار بار نشانہ بنایا گیا۔ درجنوں فلسطینی شہید ہوئے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، یہ حملے صرف قتل کے لیے نہیں بلکہ زبردستی ہجرت پر مجبور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاکہ غزہ کو فلسطینیوں سے خالی کرایا جا سکے۔قابض اسرائیل اور امریکہ کی سرپرستی میں قائم “غزہ فانڈیشن برائے انسانی امداد جیسے ادارے، حقیقت میں فلسطینیوں کو “امدادی کام کی آڑ میں زیر کرنے کا ہتھیار ہیں۔ 2024ء کے 27 مئی سے اب تک ایسی قتل گاہوں میں 340 سے زائد فلسطینی شہید اور2831 زخمی ہو چکے ہیں۔7 اکتوبر سنہ2023 سے قابض اسرائیل کی درندگی نے غزہ کو ایک جہنم میں بدل دیا ہے۔ اب تک 184 ہزار فلسطینی شہید یا زخمی ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں، بچوں اور بزرگوں کی ہے۔ 11 ہزار سے زائد افراد لاپتا ہیں جب کہ ہزاروں قحط کے باعث دم توڑ چکے ہیں۔ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں اور غزہ کی سرزمین کھنڈر بن چکی ہے۔
غزہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قابض اسرائیل فلسطینی شہید امداد کے چکے ہیں
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔