’کیا فوٹوگرافر ساتھ تھا؟‘، ٹیکسی کا ٹائر تبدیل کرتے ہوئے عمر ایوب کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں انہیں سڑک پر گاڑی کا ٹائر تبدیل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں ایک ٹیکسی کا ٹائر پنکچر ہو گیا جس پر عمر ایوب اپنی گاڑی سے اترے اور ٹیکسی کا ٹائر تبدیل کیا۔
????????????
اسلام آباد کے ریڈ زون میں ٹیکسی کا ٹائر پنکچر ہوگیا تو اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے ٹیکسی ڈرائیور کا ٹائر خود تبدیل کردیا٫ ویڈیو وائرل@OmarAyubKhan pic.
— Sheraz Ahmad Sherazi (@Sherazi_Silmian) June 18, 2025
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین اس پر مختلف تبصرے کرتے نظر آئے۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کپتان ویسے کھلاڑی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج ایک غریب ٹیکسی ڈرائیور کو پنکچر ٹائر بدلتے ہوئے مشکل میں دیکھ کر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان خود گاڑی سے اُترے اور اس کا ٹائر بدلنے میں مدد کی۔
حلیم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے ہوتے ہیں اصل عوامی لیڈر جو عوام کے درمیان عوامی انداز میں رہتے ہیں۔ ہر چھوٹی بڑی مشکل میں غریب عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یہی طرزعمل عمران خان کی ٹیم کی پہچان ہے۔
جیسا کپتان ویسے کھلاڑی !
سلام ہے ! عُمرایوب خان صاحب ❤️
آج ایک غریب ٹیکسی ڈرائیور کا پنکچر ٹائر بدلتے ہوئے مشکل میں دیکھ کر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ائوب خان صاحب خود گاڑی سے اُترے اور اپنے ہاتھوں سے اُس کا ٹائر بدلنے میں مدد کی۔
ایسے ہوتے ہیں اصل عوامی لیڈر —
جو عوام… pic.twitter.com/yjK5HKrUG1
— Haleem Adil Sheikh (@HaleemAdil) June 18, 2025
صحافی حامد میر نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’ویلڈن عمر ایوب خان‘۔
ویل ڈن عمر ایوب خان https://t.co/JEln3M4dXu
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) June 18, 2025
اویس یوسفزئی نے طنزاً لکھا کہ شکر ہے آج کی اس وڈیو سے پتہ چل گیا کہ عمر ایوب صاحب کو ٹائر بدلنا آتا ہے۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ وہ صرف پارٹیاں بدلنے میں ہی ماہر ہیں۔
شکر ہے آج کی اس وڈیو سے پتہ چل گیا کہ عمر ایوب صاحب کو ٹائر بدلنا آتا ہے۔ ہم تو سمجھتے تھے کہ صرف پارٹیاں بدلنے میں ہی ماہر ہیں
pic.twitter.com/2V93b5NfdW
— Awais Yousaf Zai (@awaisReporter) June 18, 2025
جہاں پی ٹی آئی کے حامی صارفین نے عمر ایوب کے اس اقدام کو سراہا وہیں کئی صارفین ان کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آئے کہ ان کے ساتھ فوٹو گرافر بھی تھا جو گاڑی کا ٹائر تبدیل کرنے کی ویڈیو بنا رہا تھا۔
ساتھ ایک کیمرہ مین بھی ہے
— JUI Answers Back (@JUIAnswersBack) June 18, 2025
عرفان خان لکھتے ہیں کہ نیکی کرو تو ایسے کہ دوسرے ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو مگر یہاں کیمرہ مین کو 21 توپوں کی سلامی۔ انہوں نے مزید کہا اللہ سبحانہ و تعالیٰ عمر ایوب کو اس کار خیر کا اجر دے، آمین۔
نیکی کرو تو ایسے کہ دوسرے ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو مگر یہاں کیمرہ مین کو 21 توپوں کی سلامی
اللہ سبحانہ و تعالیٰ عمر ایوب کو اس کار خیر کا اجر دے، آمین https://t.co/ccmUOwHWEG
— Irfan Khan (@irfijournalist) June 18, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام اباد عمر ایوب گاڑی کا ٹائر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد عمر ایوب گاڑی کا ٹائر ٹیکسی کا ٹائر کا ٹائر تبدیل کرتے ہوئے ایوب خان عمر ایوب
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔