عطا آباد جھیل میں سیوریج پانی اور غلاظت چھوڑے جانے سے متعلق غیر ملکی سیاح کی ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
گلگت بلتستان کے سیاحتی علاقے وادئ ہنزہ میں واقع عطا آباد جھیل میں ہوٹل کی نکاسی کا پانی چھوڑنے کی غیر ملکی سیاح کی شکایت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ روز سے پاکستان کے شمالی خطے گلگت بلتستان اور عطا آباد جھیل سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے اور اس کی وجہ ایک غیر ملکی وی لاگر کی ایک ویڈیو ہے۔
اس ویڈیو میں غیر ملکی وی لاگر نے گلگت بلتستان کی وادی ہنرہ میں عطا آباد جھیل کے کنارے قائم ہوٹل پر الزام لگایا کہ وہاں سے مبینہ طور پر سیوریج کا پانی نکل کر جھیل میں جا رہا ہے.
متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر نے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے 30 کمروں پر مشتمل ہوٹل کے ایک حصے کو سیل کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے اس حصے سے ’عطا آباد جھیل میں آلودگی پھیلائی جا رہی تھی، تاہم ہوٹل انتظامیہ نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
ویڈیو میں غیر ملکی وی لاگر کی جانب سے جس ہوٹل پر عطا آباد جھیل میں مبینہ طور پر سیوریج کا پانی چھوڑنے کا الزام عائد کیا جب کہ ہوٹل انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد قرار دیا۔
ہوٹل ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ وائرل ویڈیو میں جو دکھایا گیا ہے کہ پانی آلودہ یا گدلا ہو رہا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اصل میں حقیقت یہ ہے کہ اُس مقام پر ایک برساتی نالے کا پانی آکر ملتا ہے جس وجہ سے اس کا رنگ گدلا نظر آتا ہے اور یہ قدرتی امر ہے۔
ہوٹل کے waste یعنی گھٹر کا پانی جھیل عطا آباد میں پھینکا جا رہا ہے۔ غیر ملکی سیاح بھی دیکھ کر تشویش اور ناگواری کا اظہار کر رہے ہیں۔
George is rightly concerned and disgusted by this. Hotel waste is being dumped in the Attabad lake. pic.twitter.com/ABGEvs1rEO
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عطا آباد جھیل غیر ملکی جھیل میں کا پانی
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔