ایران میں پھنسے پاکستانی خصوصی پرواز سے اسلام آباد پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے قومی ایئرلائن کا خصوصی طیارہ ترکمانستان کے شہر اشک آباد سے پاکستانی مسافروں کو لے کر اسلام آباد پہنچ گیا، ترجمان قومی ایئرلائن کے مطابق پرواز میں 107مسافر صبح 3 بجے وطن پہنچے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایران میں پھنسے پاکستانیوں کو لے کر قومی ایئرلائن کی پہلی خصوصی پرواز اشک آباد سے اسلام آباد پہنچ گئی ہے، قومی ایئرلائن کی خصوصی پرواز پی کے 9552 کے ذریعے ایران میں پھنسے 107مسافر صبح 3 بجے وطن پہنچے ہیں۔
ایرانی فضائی حدود کی بندش کے باعث وہاں موجود پاکستانی شہری زمینی راستے کے ذریعے ترکمانستان اشک آباد پہنچے تھے، اس تمام عمل میں ایران اور ترکمانستان میں پاکستانی سفارتخانوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔
قومی ایئرلائن کی خصوصی پرواز حکومتِ پاکستان کی ہدایات پر روانہ ہوئی تھی، مسافروں نے حکومت اور قومی ایئرلائن کے بروقت اقدام کو سراہا اور قابل تحسین قرار دیا، مشکل گھڑی میں ملکی مفادات کی خاطر قومی ایئرلائن کا خدمات فراہم کرنا دہائیوں پر مشتمل روایات کا تسلسل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایران میں پھنسے قومی ایئرلائن خصوصی پرواز
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔