شی جن پنگ کا ایران اور اسرائیل سے کشیدگی فوری کم کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
بیجنگ میں چینی صدر کا کہنا تھا کہ کشیدگی کو ہوا دینے والے اسرائیلی اقدامات پر چین کو گہری تشویش ہے، کسی ملک کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ چینی صدر شی جن پنگ نے ایران اور اسرائیل سے فوری کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں سے خطے میں اچانک کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، فریقین کشیدگی میں کمی کیلئے فوری طور پر اقدامات کریں۔ چینی صدر نے کہا کہ کشیدگی کو ہوا دینے والے اسرائیلی اقدامات پر چین کو گہری تشویش ہے، کسی ملک کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی مخالفت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوجی تنازع مسائل کا حل نہیں، کشیدگی میں اضافہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں، تمام فریقین تنازع کو جلد از جلد کم کریں اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے گریز کریں۔ چینی صدر نے مزید کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی بحالی کیلئےفریقین کیساتھ مل کر کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔