سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک غیر ملکی سیاح  ہنزہ کی عطا آباد جھیل میں ہوٹل کی سیوریج اور غلاظت کی شکایت کرتا نظر آ رہا ہے جس کے بعد ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئی اور انہوں نے عطاآباد جھیل میں آلودگی پھیلانے کے الزام میں ہوٹل کے ایک حصے کو سیل کر کے 15 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ حکام نے مزید کہا کہ عطا آباد جھیل کے کنارے تمام ہوٹلوں کا معائنہ کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں سیاح نے جھیل کے صاف پانی اور گندے پانی کے درمیان فرق دکھایا اور بتایا کہ اس سے جھیل کی خوبصورتی مانند پڑ رہی ہے جس کی وجہ جھیل پر واقع ہوٹل ہے۔

سیاحوں کا کہنا تھا کہ چند سال قبل جھیل کا پانی بالکل صاف ستھرا تھا اور اب آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جھیل کا نیلا پانی گدلا ہو چکا ہے جو کالے رنگ میں تبدیل ہو گیا ہے اور اس میں سے بدبو آ رہی ہے۔

ہوٹل کے waste یعنی گھٹر کا پانی جھیل عطا آباد میں پھینکا جا رہا ہے۔ غیر ملکی سیاح بھی دیکھ کر تشویش اور ناگواری کا اظہار کر رہے ہیں۔

George is rightly concerned and disgusted by this.

Hotel waste is being dumped in the Attabad lake. pic.twitter.com/ABGEvs1rEO

— Ather Kazmi (@2Kazmi) June 16, 2025

 غیر ملکی سیاحوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین کی جانب سے اس پر مختلف تبصرے کیے گئے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ہنزہ میں ایک مشہور ہوٹل اپنا سیوریج کا پانی جھیل میں چھوڑ رہا ہے جو کہ واضح دیکھا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف جھیل کی خوبصورتی ماند پڑ رہی ہے بلکہ بدبو بھی پیدا ہو رہی ہے۔ یہ بات ایک غیر ملکی ویلاگر بتا رہا ہے لوکل انتظامیہ کہاں ہے؟

ہنزہ میں ایک مشہور ہوٹل اپنا سیوریج کا پانی جھیل میں چھوڑ رہا ہے جو کہ واضح دیکھا جا سکتا ہے جس سے نہ صرف جھیل کی خوبصورتی ماند پڑ رہی ہے بلکہ بدبو بھی پیدا ہو رہی ہے۔
یہ بات ایک گورا ویلاگر بتا رہا ہے لوکل انتظامیہ کہاں ہے؟ pic.twitter.com/uSVxJsiJ2t

— کیڑےمکوڑے (@Form_45) June 16, 2025

گلگت بلتستان ٹوارزم نامی پیج نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی میں گندا پانی عطا آباد جھیل میں چھوڑا جا رہا ہے تو متعلقہ ہوٹل کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت نے اس معاملے پر ایکشن لیا ہے۔ یہ سوشل میڈیا کی طاقت کا ثبوت ہے اور امید ہے کہ جھیل کو صاف اور محفوظ رکھا جائے گا۔

غیر ملکی سیاح کی نشاندہی پر بنائی گئی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، سوشل میڈیا کی طاقت سے جھیل پر موجود ہوٹل کے خلاف کارروائی کی گئی۔ یہی ہوتی ہے سوشل میڈیا کی اصل طاقت، جس نے آواز بن کر جھیل کو صاف اور محفوظ بنانے کی امید جگائی۔ ان شاء اللہ عطا آباد جھیل جلد صاف ستھری ہو جائے گی

اگر… https://t.co/xJoQwF3jkL

— Gilgit Baltistan Tourism. (@GBTourism_) June 18, 2025

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ملک دشمنی ہے، ہوٹل کا نام بھی بتائیں۔ کاروباری مصلحت کا شکار نہ ہوں۔

یہ ملک دشمنی ھے ۔ ھوٹل کا نامُ بھی بتائیں ۔ کاروباری مصلحت کا شکار نہ ھوں https://t.co/dernaeCrRW

— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) June 17, 2025

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سیاحتی مقامات عطاآباد جھیل غیر ملکی سیاح ہنزہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سیاحتی مقامات غیر ملکی سیاح عطا آباد جھیل آباد جھیل میں غیر ملکی سیاح سوشل میڈیا وائرل ہو ا رہا ہے کا پانی ہوٹل کے رہی ہے

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی