اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 جون2025ء) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی تشویشناک اور خطے اور عالمی امن کے لئے بہت خطرناک ہے،پاکستان نے ایران پر اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی ہے،عالمی برادری ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لئے فوری کردار ادا کرے،بھارت کے ساتھ جنگ میں اللہ تعالی نے ہمیں عظیم فتح دی ،بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے امریکا ، یورپ اور دیگر ممالک میں پاکستان کا موقف بھرپور طریقے سے پیش کیا ہے، سکیورٹی اداروں کی ضروریات پوری کریں گے، بجٹ میں پی ایس ڈی پی کے لئے ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں ،تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،آئی ایم ایف کو ہم نے بتا دیا تھا کہ زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں لگنے دیں گے۔

(جاری ہے)

بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی وجہ سے صورتحال انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے، اسرائیل نے ہمارے ہمسایہ برادر ملک ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی ہے جس میں سینکڑوں افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں، میں نے، نائب وزیراعظم اور دفتر خارجہ نے اس جارحیت کی بھرپور مذمت کی ہے، عالمی برادری کو جنگ بندی کے لئے بھرپور کوششیں کرنی چاہئیں ۔

وزیراعظم نے کہا کہ میری اس حوالے سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلی فون پر تفصیلی بات ہوئی،ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے بھی میں نے بات کی، ایران کے صدر کے ساتھ گفتگو میں میں نے پاکستان کے عوام کی طرف سے ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، اللہ کرے وہاں جلد سے جلد امن قائم ہو کیونکہ یہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لئے بھی بہت خطرناک ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ غزہ کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے، 50 ہزار سےزیادہ بچے، بوڑھے، خواتین ،نوجوان ،ڈاکٹرز اور انجینئرز شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں ظلم اور بربریت ہو رہی ہے، عالمی ضمیر کب جاگے گا۔ انہوں نےکہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ 21 اور 22 تاریخ کو او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے ترکیہ جا رہے ہیں، ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی میری بات ہوئی تھی، ان کی کاوشیں اور ان کا موقف بھی بڑا واضح ہے ۔

وفاقی بجٹ کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی بجٹ پیش ہو چکا ہے، وزیر خزانہ، سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی ار ان کی ٹیم نے بھرپور محنت کی، اتحادی جماعتوں کو بھی بجٹ پر اعتماد میں لیا گیا، اس وقت پارلیمنٹ میں بجٹ پر بحث جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کو ہم نے بتا دیا تھا کہ زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں لگے گا، نہ کھاد پر اور نہ ہی کیڑے مار ادویات پر ٹیکس لگے گا ،آئی ایم ایف نے ہماری اس بات کو تسلیم کر لیا جس پر ان کے شکر گزار ہیں، زراعت کا شعبہ پہلے ہی دبائو کا شکار ہے، اس کی ترقی کے لئے ہمیں یہ فیصلہ کرنا تھا ، 6 سے 12 لاکھ آمدن پر صرف ایک فیصد ٹیکس لگے گا جو کہ پچھلے سال پانچ فیصد تھا ،بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ میں اللہ تعالی نے ہمیں عظیم فتح دی ہے، اللہ تعالی کے فضل و کرم، افواج پاکستان کی شاندار کارکردگی اور 24 کروڑ عوام کی والہانہ محبت اور حمایت سے ہم نے اس جنگ میں کامیابی حاصل کی، دہشت گردی کے خلاف بھی جنگ کے لئے پر عزم ہیں، اس غرض سے افواج پاکستان کو ضروری ساز و سامان کی فراہمی کے لئے مالیاتی گنجائش کو بجٹ میں بڑھایا گیا ہے کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کا حجم بھی ایک ہزار ارب روپے رکھا گیا ہے، ہم نے چیلنجز کے باوجود ایک معاہدہ کیا ہے اس کو پورا کرنا ہے، ہم ان میں سے نہیں جو وعدہ خلافی کر کے ملک کی معیشت کو دیوالیہ ہونے کے قریب لے گئے تھے، اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ہم نے 2023 ء میں نہ صرف ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا بلکہ آج ملک ترقی کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک وفد بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں ملک کا موقف پیش کرنے کے لئے بیرون ملک گیا تھا ، وفد نے مختلف ممالک میں جا کر پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی، امریکا ، یورپ اور دیگر ممالک کا دورہ کیا، بلاول بھٹو زرداری اور وفد کے تمام ارکان کی کاوش کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے بیرون ملک پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی۔\932.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالی کی بھرپور ایران کے کے ساتھ گیا ہے کے لئے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری