data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے قومی بجٹ کو قومی امنگوں اور زمینی حقائق کے برعکس قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سنجیدگی سے اقتصادی بحرانوں کا حل تلاش کریں۔سیاسی بحرانوں کا حل مذاکرات میں ہے، معیشت کی بحالی کے لیے میثاق معیشت تشکیل دیا جائے۔مجلس شوریٰ نے پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان کی جرأت مندانہ کارروائی کی تحسین کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا غرور ،گھمنڈ اورتکبر خاک میں مل گیا،امریکا اور یورپ کی بھارت پر انحصار کی تمام بنیادیں مسمار ہوگئیں۔ چین ،ترکی ،سعودی عرب ،امارات ،بنگلا دیش ،ایران،آذر بائیجان کی جانب سے پاکستان کی سیاسی سفارتی اور اصولی مدد قابل فخر رہی ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ اور کشمیریوں پر ظلم و ستم جاری ہے اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کے بعد پاکستان کے لیے پانی کا مسئلہ دراصل وجود پاکستان کا مسئلہ بن گیاہے۔یہ امر باعث تشویش ہے کہ پاک بھارت تنازع میں او آئی سی کی حمایت حاصل نہ ہوسکی۔مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے ائر انڈیا طیارے کے المناک حادثے پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے بھارتی عوام اور متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کیا۔ متفقہ قراردار میں کہا گیا ہے کہ غزہ ، فلسطین کی صورت حال بہت ہی بھیانک اور خطرناک ہو گئی ہے ۔ ایران پر اسرائیل کا حملہ عالم اسلام اپنے ا وپر حملہ تصور کرے اور فی الفور اجتماعی اقدام کرے۔ امریکا کی دوغلی اور منافقانہ پالیسی کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کاپیامبر قرار دینا غیر منصفانہ اقدام ہے۔ جماعت اسلامی اعادہ کرتی ہے کہ فلسطین اور کشمیر کی آزادی کے لیے پوری قوم کودشمن کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنانے کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ مجلس شوریٰ نے ملک میں بدامنی کی وجہ سے عوام کو جان،مال،عزت کا تحفظ حاصل نہیں رہا۔ سندھ میں عوام ڈاکوؤں ،رہزنوں کے رحم وکرم پر ہیں، پنجاب میں اسٹریٹ کرائمز، بلوچستان میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور شاہراہوں کا غیر محفوظ ہونااور زندہ افراد کا لاپتا کر دینا، بدامنی کوفروغ دے رہا ہے نیز خیبرپختونخوا کے اکثر وبیشتر اضلاع میں ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں امن وامان کی صورت حال شدید متاثر اور ٹارگٹ کلنگ ، اغوا برائے تاوان روزمرہ کا معمول بن چکا ہے اور حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات معمول پرآنے سے امن وامان کی صورتحال میں بہتری آنی چاہیے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے امن وامان کو یقینی بنائیں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ امر باعث تشویش ہے کہ پنجاب، اسلام آباد اور کوئٹہ کے عوام مسلسل بلدیاتی انتخابات سے محروم ہیں۔ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے مشترکہ مفادات کونسل کے باقاعدگی سے اجلاس نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ملک کے سیاسی بحرانوں پر اپنی گہری تشویش کااظہارکرتے ہوئے قراردار میں کہا گیا ہے الیکشن میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالاگیا،26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کا حلیہ بگاڑا گیا، سویلین کے آرمی کورٹس میں ٹرائل جیسے غیر آئینی اقدام، عدلیہ کی پامالی ،آزادیٔ اظہار رائے پر قدغن کے لیے کالے قوانین بنا کر ملک کو ’’ہائبرڈ نظام‘‘ میں جکڑ دیاگیاہے۔ قومی و سیاسی محاذ پر سیاسی ڈائیلاگ ہی سیاسی بحرانوںکا حل ہوتا ہے۔ مجلس شوریٰ کے اجلاس میں قومی سیاسی بحرانوں سے نجات کے لیے 12نکاتی قومی ایجنڈاپیش کیا گیا اور کہا گیا کہ دو قومی نظریے کی حفاظت، قرآن و سنت کی بالادستی ،پاکستان کے مضبوط اسلامی کردار کو ہر سطح پر قبول کرتے ہوئے عمل کیاجائے۔ آئین پاکستان کی حدود کو تمام اسٹیک ہولڈرز تسلیم کریں ۔ ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخاب کے لیے تمام سیاسی جمہوری قیادت اور جماعتیں ایک موقف اختیار کریں ۔اقتدار کے حصول کے لیے غیر جمہوری طریقوں اور اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کاری سے انکار کرکے ماضی کی غلطیوں کا سب کو ازالہ کرناہوگا۔ اقتصادی بحرانوں کے خاتمے کے لیے قومی میثاق معیشت پر اتفاق کیاجائے ۔ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کیاجائے ، لاپتا افراد کا مسئلہ اورسیاسی قیدیوں کی رہائی ، آئین و قانون کے مطابق انسانی بنیادوں پر حل کیاجائے۔ ملک کے اندر پانی کی تقسیم کے تنازعات کا خاتمہ کیاجائے اور بھارتی آبی دہشت گردی کے مقابلے میں یک آواز ہوجائیں۔ عدل وانصاف کا نظام ہر دباؤ سے آزاد ہو۔ عدلیہ کی قاتل 26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ کیاجائے ۔تعلیم اور دورجدیدکی ٹیکنالوجی کے ہنر سے نوجوانوں کو آراستہ کرنا اور نوجوان نسل کا اعتماد بحال کرنا قومی ترجیح بنایاجائے ۔طلبہ کے جمہوری حقوق بحال کرتے ہوئے یونینز انتخاب کرائے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیاسی بحرانوں پاکستان کی کرتے ہوئے کہا گیا کے لیے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی