قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ ہمیں کھل کر ایران، فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہوجانا چاہیے، اسرائیل کی مسلمانوں کےخلاف بربریت جاری ہے، پاکستان اسلامی دنیا کی طاقتور ایٹمی قوت ہے، ہمارے دوست ممالک ہم سےدور ہوتے جا رہے ہیں، تمام صورتحال میں ہمیں اپنی پالیسیوں پر غور کرنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ بجٹ وزیرخزانہ نے نہیں آئی ایم ایف نے تیار کیا۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اراکین کی تقریروں کو نہ دکھانے پر احتجاج کرتا ہوں، ہماری فوج نے بھی قربانیاں دی ہیں، پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ وزیرخزانہ نے نہیں آئی ایم ایف نے تیار کیا ہے، وزیرخزانہ میں اتنی صلاحیت نہیں انہوں نےبجٹ پڑھ کرسنایا ہے۔ سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان بھارت کو جواب دیتا ہے تو ہاتھ روکے جاتے ہیں، فلسطین میں مسلمانوں کے قتل عام پر کھلی چھوٹ دی جاتی ہے، اسی طرح ایران اگر اسرائیل کو جواب دیتا ہے تو بھی اس کے ہاتھ روکے جاتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں کھل کر ایران، فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہوجانا چاہیے، اسرائیل کی مسلمانوں کےخلاف بربریت جاری ہے، پاکستان اسلامی دنیا کی طاقتور ایٹمی قوت ہے، ہمارے دوست ممالک ہم سےدور ہوتے جا رہے ہیں، تمام صورتحال میں ہمیں اپنی پالیسیوں پر غور کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کا خون پی کر صہیونی درندوں کی پیاس نہیں بجھ رہی، غزہ میں 2 روز کے دوران ڈیڑھ ہزار شہید ہو چکے ہیں، او آئی سی اب بس دکھاوا ہے، سیاست دانوں کےساتھ انتقامی رویے کے بجائے انصاف پر مبنی رویہ ہونا چاہیے۔

سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اداروں کی کوئی حیثیت نہیں ہے، او آئی سی ایک دکھاوا ہے، جب وہ چاہیں ہم ان کے دباؤ میں قانون سازی کرتے ہیں، اسے پاک انڈیا جنگ نہ کہیں، پاک مودی جنگ کہا جائے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی اپوزیشن اور اقلیت نے بھی مودی کا ساتھ نہیں دیا، جب قوم ساتھ ہوگی تو کامیابی ملے گی، ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان کو کھل کر ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان سربراہ جے یو ا ئی کا کہنا تھا کہ کے ساتھ نے کہا

پڑھیں:

پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو

وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔

فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔

عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔

ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔

ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔

اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا